اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے سے متعلق سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سندھ، جہلم اور چناب کے پانی پر پاکستان کا حق بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ہے، جس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ پانی صرف جغرافیہ کا نہیں بلکہ خوراک، مستقبل اور زندگی کا مسئلہ ہے، جبکہ پانی کے وسائل عالمی سیاست اور سلامتی کا مرکزی موضوع بنتے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی ملک کے پانی کو روکنا ایک وجودی حملے کے مترادف ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان جنگ نہیں چاہتا، تاہم اپنے بنیادی مفادات اور آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آبی حقوق کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کا قومی سطح پر جواب دیا جائے گا اور کروڑوں پاکستانیوں کے حقِ آب کے تحفظ کے لیے پوری قوم متحد ہے۔
مزید پڑھیں: دلہن کے زیورات پر صرف اسی کا حق، شوہر یا سسرال کوئی دعویٰ نہیں کر سکتے، سپریم کورٹ
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ پانی کو ہتھیار بنانے کے مسئلے کی سنگینی کو سمجھے اور سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے پانی کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ بھارتی رویہ پوری دنیا کے لیے ایک خطرناک مثال بن چکا ہے اور پاکستان اپنے آبی حقوق اور بنیادی مفادات پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔






