نجی نشریاتی ادارے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے اپنے بیان میں کہا کہ پیپلز پارٹی نہ ماضی میں سندھ کی تقسیم کی حامی رہی ہے اور نہ آئندہ کبھی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت مہنگائی اور معاشی بحران کا سامنا کر رہا ہے، ایسے میں مزید انتظامی یونٹس قائم کرنے کے لیے درکار وسائل موجود نہیں۔
سعدیہ جاوید نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ ایم کیو ایم کا سیاسی اسٹنٹ ہے۔ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال گزشتہ ڈھائی برس سے وزارت کے منصب پر فائز ہیں، لیکن انہوں نے اپنے ووٹرز کے مسائل کے لیے آواز نہیں اٹھائی، جب کہ خالد مقبول صدیقی نے بھی تعلیم کے شعبے میں کوئی نمایاں منصوبہ نہیں دیا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی سندھ کا دارالحکومت ہے اور سندھ کی تقسیم کسی صورت پیپلز پارٹی کو قابل قبول نہیں۔ پنجاب میں انتظامی یونٹس کے قیام کی بات ہو سکتی ہے، لیکن سندھ کے عوام ایسی کوئی تقسیم نہیں چاہتے۔
مزید پڑھیں:
کراچی کے مسائل پر بات کرتے ہوئے سعدیہ جاوید نے تسلیم کیا کہ شہر کو انفراسٹرکچر سمیت متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ یونیورسٹی روڈ پر جاری ترقیاتی کاموں کے باعث شہریوں کو مشکلات پیش آ رہی ہیں اور وہ خود بھی پانی کی قلت سے متاثر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کے مسائل کے حل کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور تمام ذمہ داری موجودہ حکومت پر عائد نہیں کی جا سکتی، رواں سال کے اختتام تک شہر کی صورتحال میں بہتری نظر آئے گی۔
ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے سے متعلق سعدیہ جاوید نے کہا کہ منصوبے پر کام تیزی سے جاری ہے اور مکسڈ لین ٹریک کی تکمیل کی ڈیڈ لائن 31 جولائی مقرر کی گئی ہے۔







