کراچی میں نمائش چورنگی پر مختصر خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ مختلف مقامات پر پولیس گردی کی گئی اور کارکنوں کو حراست میں لیا گیا، اس کے باوجود عوام بڑی تعداد میں جمع ہوئے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ قوم بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب اور سندھ دونوں صوبوں میں ان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا گیا، لیکن اس کے باوجود تحریک نہیں رکے گی۔ آئندہ پڑاؤ خیبرپختونخوا میں ہوگا اور اسٹریٹ موومنٹ کے ذریعے بانی پی ٹی آئی کا پیغام ملک بھر میں پہنچایا جائے گا۔

انہوں نے کراچی کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے بغیر سہولیات کے بھی جلسہ کر کے ثابت کر دیا کہ کراچی کی نمائندہ جماعت پاکستان تحریک انصاف ہے، جو لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ عمران خان کی سیاست ختم ہو چکی ہے، وہ آج آ کر دیکھ لیں۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ جو لوگ جمہوریت کے دعویدار ہیں وہ درحقیقت جمہوریت پسند نہیں نکلے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے آئین کا ڈھانچہ تبدیل کر دیا ہے اور سندھ میں پیپلز پارٹی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے۔

انہوں نے کارکنوں کو تیار رہنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ عوام ڈی چوک جانے کے لیے تیار ہیں اور بانی پی ٹی آئی کی کال کا انتظار ہے۔ وہ کسی کو اجازت نہیں دیں گے کہ عوام کے حقوق سلب کیے جائیں یا قوم کے لیڈر کو بلاجواز جیل میں رکھا جائے۔

واضح رہے کہ کراچی کے باغ جناح میں پی ٹی آئی کا جلسہ منعقد نہ ہو سکا، جس کے بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے نمائش چورنگی پر مختصر خطاب کیا اور بعد ازاں روانہ ہو گئے، جس کے بعد کارکن بھی منتشر ہو گئے۔

پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا رش کے باعث جلسہ گاہ نہ جا سکے اور نمائش چورنگی پر ہی خطاب کیا گیا۔ سندھ حکومت نے باغ جناح میں مشروط اجازت دی تھی، تاہم پی ٹی آئی نے این او سی تاخیر سے ملنے کا مؤقف اختیار کرتے ہوئے جلسہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

اس سے قبل وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ سندھ کے عوام نے عزت دی مگر سندھ حکومت نے ٹوپی اور اجرک کی لاج نہ رکھی اور باغ جناح آنے جانے والے راستے بند کیے گئے۔ جلسہ روکنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی، لیکن عوامی جذبہ قابلِ ستائش ہے۔