سماجی رابطے کی سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنی وائرل ویڈیو میں فواد چوہدھری نے کہا کہ پوری دنیا میں شیشہ اور حقہ عام طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، مگر پاکستان میں بلاجواز پابندیاں عائد کر دی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ لاہور میں اچانک یہ خیال آ گیا کہ شیشہ کیفے بند کر دیے جائیں، جس کے بعد شہر میں شیشہ کیفے ختم ہو گئے، بیٹھنے کی جگہیں نہیں رہیں، نہ بارز ہیں اور نہ ہی مناسب کیفے کلچر موجود ہے۔

فواد چوہدھری کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں خصوصاً متحدہ عرب امارات، ترکی اور دیگر ممالک میں بارز موجود ہیں جہاں لوگ بیٹھتے ہیں، گفتگو کرتے ہیں اور وقت گزارتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بارز میں جانا اس بات کی علامت نہیں کہ ہر شخص شرابی یا نشے کا عادی ہو۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب یو اے ای اور ترکی جیسے ممالک نے یہ سہولت دی ہوئی ہے تو پاکستان میں کیوں نہیں دی جا سکتی؟ فواد چوہدھری نے کہا کہ اصول بالکل سادہ ہے، جس نے پینا ہے وہ پیے، جس نے نہیں پینا وہ نہ پیے، فیصلہ فرد کا ہونا چاہیے، ریاست کا نہیں۔