اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حنیف عباسی نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی اور استحکام ان بہادر جوانوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانیں وطن پر قربان کیں، شہدا کی قربانیوں کو ہمیشہ عزت، احترام اور قومی یکجہتی کی علامت کے طور پر یاد رکھا جانا چاہیے۔
وفاقی وزیر نے، بظاہر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان کے تناظر میں، کہا کہ مولانا فضل الرحمان ان کے لیے آج بھی ایک قابل احترام سیاسی و مذہبی شخصیت ہیں، تاہم شہدا کے اہل خانہ کے جذبات اور احساسات کا احترام کرنا ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے۔
حنیف عباسی نے کہا کہ پاکستان کی بنیاد "لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ﷺ" کے مقدس نظریے پر رکھی گئی، اور اسی نظریے کے تحفظ کے لیے پاک فوج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر سیکیورٹی فورسز کے ہزاروں جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، پوری قوم اپنے ان بہادر سپوتوں کو سلام پیش کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہدا اور غازیوں کی قربانیوں کی کوئی قیمت مقرر نہیں کی جا سکتی، کیونکہ یہ قربانیاں قوم کی آزادی، خودمختاری اور امن کی ضمانت ہیں، اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، لیکن شہدا کی قربانیوں کو تنخواہوں، مراعات یا ٹیکس جیسے معاملات سے جوڑنا مناسب نہیں اور اس سے شہدا کے خاندانوں کے جذبات مجروح ہو سکتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاک فوج اور دیگر سیکیورٹی ادارے ملک کے ہر حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ خیبرپختونخوا، بلوچستان، پنجاب، سندھ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت پاکستان کے تمام علاقوں سے تعلق رکھنے والے جوانوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لازوال قربانیاں دی ہیں، اس لیے پاک فوج پورے پاکستان کی فوج ہے، کسی ایک صوبے یا علاقے کی نہیں۔
حنیف عباسی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ کرنے والے عناصر اور دہشت گرد تنظیموں کو ہر قیمت پر ناکام بنایا جائے گا، دشمن مختلف سازشوں کے ذریعے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتا ہے، تاہم ریاستی ادارے پوری قوت کے ساتھ دہشت گردوں اور پاکستان دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن‘ یہ راز تنخواہ داروں کی سمجھ سے بالاتر ہے، رانا ثنا اللہ
انہوں نے کشمیر کے حوالے سے اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، اور کشمیری عوام نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کیا ہے،حکومت کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گی۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر وفاقی وزیر نے قوم سے اپیل کی کہ موجودہ حالات میں اتحاد، اتفاق اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا جائے، کیونکہ دہشت گردی کے خلاف کامیابی صرف اسی صورت ممکن ہے جب پوری قوم ایک صفحے پر کھڑی ہو اور اپنے شہدا اور غازیوں کی قربانیوں کا احترام کرے۔






