ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق سوئٹزرلینڈ کے علاقے برگن اسٹاک میں ہونے والے ان مذاکرات میں اسلامی جمہوریہ ایران، امریکا، قطر اور پاکستان کے اعلیٰ سطحی وفود شریک ہوں گے۔

یہ مذاکرات 17 جون 2026 کو ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر دستخط کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلا باضابطہ اعلیٰ سطحی رابطہ قرار دیے جا رہے ہیں۔

دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والی مفاہمتوں پر عملدرآمد، اعتماد سازی اور آئندہ پیش رفت کے لیے اپنا تعمیری اور سہولت کار کردار جاری رکھے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کی ایران، امریکا، قطر اور سوئٹزرلینڈ کے وفود کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتوں کی بھی توقع ہے۔

ان ملاقاتوں میں علاقائی استحکام، امن، سفارت کاری، اقتصادی تعاون اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اس موقع پر مکالمے، تنازعات کے پرامن حل اور مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن و استحکام کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرے گا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ حالیہ علاقائی بحران کے دوران پاکستان کے سہولت کار کردار کو عالمی سطح پر سراہا گیا، جس نے اسلام آباد کی متوازن، اصولی اور تعمیری خارجہ پالیسی کو اجاگر کیا۔

پاکستان نے نہ صرف ایران اور امریکا کے درمیان ابتدائی رابطوں اور مذاکرات کی میزبانی کی بلکہ پس پردہ سفارتی کوششوں کو بھی جاری رکھا، جو بالآخر ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ کی صورت میں سامنے آئیں۔

مبصرین کے مطابق برگن اسٹاک مذاکرات ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والے فریم ورک کو عملی شکل دینے، جوہری پروگرام، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز، اقتصادی پابندیوں اور جنگ بندی سے متعلق معاملات پر پیش رفت کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کی شرکت کو خطے میں امن اور سفارتی حل کے لیے اس کے بڑھتے ہوئے کردار کی ایک اہم علامت قرار دیا جا رہا ہے۔