انہوں نے یہ بات اتوار کو اپنا کنونشن 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ احسن اقبال نے کہا کہ دنیا کا کوئی بھی جمہوری ملک سیاسی ایجنڈوں کی خاطر ریاستی اداروں کو کمزور کرنے کی اجازت نہیں دیتا، اور بین الاقوامی سطح پر اندرونی اختلافات کو تماشہ بنانے سے پاکستان کے وقار، عالمی تشخص اور ریاستی مفاد کو نقصان پہنچتا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی ڈاکٹرز، پاکستان کے صحت کے شعبے کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی معالجین جدید طبی مہارت، ٹیکنالوجی اور تجربات پاکستان منتقل کریں، جبکہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے صحت کے شعبے میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو صحت، خواندگی اور آبادی کے شعبوں میں بڑے چیلنجز درپیش ہیں، جن میں ہیپاٹائٹس سی، ذیابیطس، تپ دق، پولیو اور بچوں میں غذائی کمی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان پاپولیشن کونسل کے قیام کی منظوری دے دی ہے، جس کی سربراہی وزیراعظم کریں گے جبکہ تمام وزرائے اعلیٰ اس کے رکن ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے پروگرام جاری ہیں، جبکہ ذیابیطس سے بچاؤ کے لیے ملک گیر آگاہی مہم بھی شروع کی جائے گی۔

احسن اقبال نے کہا کہ پالیسیوں کے تسلسل میں رکاوٹوں کی وجہ سے پاکستان اپنے ترقیاتی اہداف مکمل طور پر حاصل نہیں کر سکا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں توانائی بحران کا خاتمہ، امن و امان کی صورتحال میں بہتری اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کا آغاز کی کامیاب شروعات اہم کامیابیاں تھیں۔

وفاقی وزیر کے مطابق سی پیک کے پہلے مرحلے میں تقریباً 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آئی، جبکہ اپریل 2022 میں اتحادی حکومت نے معیشت کو دیوالیہ ہونے سے بچایا۔

انہوں نے کہا کہ قومی مفاد میں مشکل مگر ضروری فیصلوں کے باعث مہنگائی تقریباً 38 فیصد سے کم ہو کر 5 سے 6 فیصد کی سطح پر آ گئی ہے، جبکہ شرح سود میں کمی سے پائیدار معاشی ترقی کی بنیاد رکھی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2022 کے تباہ کن سیلاب سے پاکستان کو 30 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا، تاہم ملک نے بحالی کا سفر جاری رکھا۔ احسن اقبال نے بتایا کہ حکومت کی اڑان پاکستان حکمت عملی کا مرکز برآمدات میں اضافہ ہے اور ہدف یہ ہے کہ 2035 تک پاکستان کی برآمدات کو 100 ارب ڈالر سے تجاوز کرایا جائے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں سے پاکستان نے حالیہ قومی چیلنجز کا مؤثر مقابلہ کیا، جبکہ پاکستان کی امن کوششوں کو عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی۔

احسن اقبال نے کہا کہ اختلافِ رائے کا اظہار ذمہ داری کے ساتھ ہونا چاہیے اور قومی خودمختاری و ریاستی وقار ہر صورت مقدم ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اوورسیز پاکستانی ڈاکٹروں کو قومی صحت کے نظام سے جوڑنے کے لیے ایک انقلابی ٹیلی میڈیسن ماڈل زیر غور ہے، جس کے تحت پاکستان کے 60 اضلاع میں امریکی ماہرین صحت پر مشتمل ٹیلی میڈیسن بیک اپ پینلز قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، تاکہ دور دراز علاقوں کے ڈاکٹروں کو بین الاقوامی سطح کی طبی معاونت فراہم کی جا سکے۔