سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ کی بنیاد پر تعین درحقیقت "روزانہ کی بنیاد پر لوٹ مار اور عوام کی جیب پر ڈاکا ڈالنے کا فیصلہ" ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت قیمتوں میں اضافے کے بجائے پیٹرول پر عائد تقریباً 120 روپے کے مختلف ٹیکسز اور لیویز کو ختم کیوں نہیں کرتی۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم لیوی کا عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمت سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں، اس کے باوجود حکومت مسلسل لیوی کی مد میں عوام سے اضافی رقم وصول کر رہی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے الزام عائد کیا کہ حکومت لیوی کے نام پر "بھتہ خوری" کر رہی ہے اور اسے فوری طور پر ختم کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت اپنی معاشی ناکامیوں کا بوجھ مسلسل عوام پر منتقل کر رہی ہے، جبکہ مہنگائی سے پہلے ہی متاثرہ شہری مزید مالی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔
واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار میں تبدیلی کی تجاویز زیر غور ہیں، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ سامنے آنا باقی ہے۔





