راولاکوٹ کی ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے نجی نشریاتی ادارے بی بی سی کو بتایا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے کارکنوں نے سنگولہ کے مقام سے راولاکوٹ شہر میں داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم سکیورٹی فورسز اور پولیس نے انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔

ان کے مطابق بس ٹرمینل کی جانب سے تقریباً دو ہزار مظاہرین شہر کی طرف بڑھے، لیکن انہیں بھی راولاکوٹ میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔

اہلکار نے بتایا کہ دریک کے مقام، جہاں ایکشن کمیٹی گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے دھرنا دیے ہوئے ہے، سے تقریباً تین ہزار مظاہرین نے راولاکوٹ کی جانب مارچ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ دریک کی جانب سے آنے والے مظاہرین کی طرف سے مبینہ طور پر پولیس پر فائرنگ کی گئی، جس کے جواب میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جوابی فائرنگ کی۔

انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی واضح پالیسی ہے کہ جہاں سے فائرنگ ہوگی، اس کا جواب فائرنگ سے دیا جائے گا، جبکہ دیگر مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی جا رہی ہے۔

ضلعی انتظامیہ کے اہلکار کے مطابق دریک سے آنے والے مارچ میں خواتین بھی شامل تھیں، جو قافلے کے آخری حصے میں موجود تھیں۔

دوسری جانب کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اپنے مطالبات کے حق میں مظفرآباد کی جانب دوبارہ لانگ مارچ شروع کر دیا ہے۔

کمیٹی کی کور کمیٹی کے رکن عابد شاہین نے الزام عائد کیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے "پرامن لانگ مارچ" کے شرکا پر بلااشتعال فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ان کے بقول کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کسی صورت نہیں رکے گا اور مظاہرین مظفرآباد پہنچ کر ہی رہیں گے۔

ادھر انتخابی سرگرمیوں کے پیشِ نظر پہلے مرحلے میں میرپور میں انٹرنیٹ سروس بحال کر دی گئی ہے، تاہم موبائل انٹرنیٹ کی رفتار سست ہے۔

اس کے برعکس مظفرآباد اور پونچھ ڈویژن میں انٹرنیٹ سروسز بدستور معطل ہیں، جبکہ مظفرآباد میں موبائل فون سروس بحال ہے۔

میرپور پولیس کے ڈی آئی جی کامران کا کہنا ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے پولیس مکمل طور پر متحرک ہے، جبکہ فرنٹیئر کور (ایف سی) کے اہلکار بھی مختلف علاقوں میں تعینات کر دیے گئے ہیں۔

حکام کے مطابق میرپور ڈویژن میں انتخابی مہم آج رات بارہ بجے ختم ہو جائے گی۔