ذرائع کے مطابق عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والے حالیہ اضافے اور مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کے اثرات پاکستان کی مقامی مارکیٹ پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ ابتدائی تخمینوں کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 40 روپے فی لیٹر تک اضافہ متوقع ہے، جبکہ پیٹرول کی قیمت میں بھی 10 روپے فی لیٹر تک اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں ممکنہ اضافے کو محدود رکھنے کے لیے حکومت مختلف تجاویز پر غور کر رہی ہے، جن میں پیٹرولیم لیوی میں جزوی کمی بھی شامل ہے۔ تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ وزارتِ خزانہ، اوگرا کی ورکنگ اور وزیراعظم کی منظوری کے بعد کیا جائے گا۔

معاشی ماہرین کے مطابق اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں اسی رفتار سے بڑھتی رہیں تو اس کے اثرات صرف پیٹرول اور ڈیزل تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ٹرانسپورٹ، زرعی شعبے، صنعتی پیداوار اور روزمرہ استعمال کی متعدد اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

ادھر حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی مصنوعی قلت پیدا کرنے اور ذخیرہ اندوزی کے ذریعے ناجائز منافع کمانے کی کوششوں کا سخت نوٹس لے لیا ہے۔ متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ملک بھر میں پیٹرول پمپس اور آئل ڈپوؤں کی نگرانی مزید مؤثر بنائی جائے تاکہ عوام کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

نیشنل کمیٹی آن مانیٹرنگ اینڈ کوآرڈینیشن نے بھی بعض عناصر کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اوگرا اور متعلقہ صوبائی اداروں کو فوری کارروائی کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ذخیرہ اندوزی یا مصنوعی قلت پیدا کرنے میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

واضح رہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان آئندہ پندرہ روزہ جائزے کے بعد متوقع ہے، جس کا اطلاق حکومت کی منظوری کے بعد کیا جائے گا۔ حتمی قیمتوں کا انحصار عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور حکومتی ٹیکسوں و لیوی سے متعلق فیصلوں پر ہوگا۔