حلف برداری کی پروقار تقریب گلگت کے چنار باغ میں منعقد ہوئی، جہاں گلگت بلتستان کے گورنر نے نو منتخب وزیرِ اعلیٰ سے عہدے کا حلف لیا، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، پارٹی کے مرکزی و صوبائی رہنما، اراکین اسمبلی، سرکاری حکام، سیاسی شخصیات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
تقریب کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، جبکہ حلف برداری کے بعد شرکاء نے نو منتخب وزیرِ اعلیٰ کو مبارکباد پیش کی اور نئی حکومت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
حلف اٹھانے کے بعد اپنے خطاب میں وزیرِ اعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہا کہ 7 جون کے انتخابات میں گلگت بلتستان کے عوام نے پاکستان پیپلز پارٹی پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا، جس کے نتیجے میں جماعت خطے کی سب سے بڑی سیاسی قوت بن کر سامنے آئی۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ انتخابات میں نوجوانوں اور خواتین نے بھرپور انداز میں حصہ لیا، جو جمہوری عمل کے استحکام اور عوامی شعور کا مثبت اظہار ہے، نئی حکومت عوامی مسائل کے حل، ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل، بہتر طرزِ حکمرانی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کرے گی۔
وزیرِ اعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام علاقوں کو یکساں ترقی دی جائے گی، عوام کی توقعات پر پورا اترنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی اور گلگت بلتستان کی معاشی، سماجی اور سیاحتی ترقی کے لیے وفاقی حکومت اور اتحادی جماعتوں کے تعاون سے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔
یاد رہے کہ امجد حسین ایڈووکیٹ 22 جون کو گلگت بلتستان اسمبلی میں وزیرِ اعلیٰ منتخب ہوئے تھے۔ 7 جون کو ہونے والے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی نے 24 رکنی اسمبلی میں 12 نشستیں حاصل کرکے سب سے بڑی سیاسی جماعت کے طور پر کامیابی حاصل کی، جس کے بعد اتحادی جماعتوں کی حمایت سے حکومت تشکیل دی گئی۔
پیپلز پارٹی نے حکومت سازی کے لیے پاکستان مسلم لیگ (ن) سمیت دیگر اتحادیوں کی حمایت حاصل کی، جس کے نتیجے میں گلگت بلتستان میں اتحادی حکومت وجود میں آئی۔ اس سے قبل پیپلز پارٹی کے عمران ندیم اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان سے شکست کے بعد مودی شدید دباؤ میں ہیں، میرے خلاف پروپیگنڈا مہم سے ان کی ساکھ بحال نہیں ہو سکتی، خواجہ آصف
حلف برداری کی تقریب پہلے یکم جولائی کو منعقد ہونا تھی، تاہم بعد ازاں اسے مؤخر کر دیا گیا تھا۔ پارٹی ذرائع کے مطابق تقریب کی نئی تاریخ کا تعین چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی بیرون ملک مصروفیات مکمل ہونے کے بعد کیا گیا۔
تقریب سے قبل بلاول بھٹو زرداری نے گلگت میں یادگارِ شہداء کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا، فاتحہ خوانی کی اور ملکی سلامتی کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کی قربانیوں کو سراہا۔






