نجی خبررساں ادارے انڈیپینڈینٹ اردو کے مطابق ایک تحریری بیان میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے یہ وضاحت پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کی منگل کو ہونے والی پریس کانفرنس کے جواب میں دی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس کے دوران خیبر پختونخوا حکومت سے سوال کیا تھا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف کہاں کھڑی ہے، اور یہ نکتہ بھی اٹھایا تھا کہ اگر ٹی ٹی پی نے تمام سیاسی جماعتوں کو نشانہ بنایا ہے تو پی ٹی آئی پر حملے کیوں نہیں کیے گئے۔

وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ تحریک انصاف کے عہدیداران، منتخب نمائندے اور صوبائی وزرا دہشت گردی کا نشانہ بنتے رہے ہیں، بعض کو فائرنگ کے واقعات میں شہید کیا گیا جب کہ کئی افراد دھماکوں میں جان کی بازی ہار گئے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف ممکنہ فوجی آپریشن کی مخالفت صرف پی ٹی آئی کا مؤقف نہیں، بلکہ خیبر پختونخوا کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں اور ہر مکتبۂ فکر اس بات پر متفق ہیں کہ فوجی کارروائیاں کسی بھی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتیں۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ اصل مسئلہ صرف ریاست کی سنجیدگی کا نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ فیصلے زمینی حقائق، منتخب نمائندوں، صوبائی حکومت اور مقامی آبادی کو اعتماد میں لیے بغیر کیے جا رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ کےپی نے کہا کہ صوبے کے کئی اضلاع میں عوام آج بھی عدم تحفظ، معاشی جمود، نقل مکانی کے خدشات اور ریاستی پالیسیوں پر عدم اعتماد کا شکار ہیں، جس کے باعث کاروبار، تعلیم اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ صوبے میں اب تک 22 بڑے فوجی آپریشنز اور تقریباً 14 ہزار انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں، اس کے باوجود دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہو سکا، جو پالیسی سازی اور عمل درآمد میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ صوبہ جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تقریباً 80 ہزار قیمتی جانوں کی قربانیاں دی ہیں، اس کے عوام اور ان کے جمہوری مینڈیٹ کو دہشت گردی سے جوڑنا نہایت افسوسناک اور تکلیف دہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: قائداعظم کا خواب نظام کی تبدیلی تھا، مگر پاکستان میں آج بھی انگریز کا مسلط کردہ نظام چل رہا ہے، حافظ نعیم الرحمان

انہوں نے الزام عائد کیا کہ بارہا خبردار کرنے کے باوجود دہشت گردی کو دوبارہ خیبر پختونخوا میں داخل ہونے دیا گیا اور بعض بیانیوں کے ذریعے اس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے زور دیا کہ دہشت گردی اور بدامنی کا دیرپا حل یکطرفہ فیصلوں کے بجائے خیبر پختونخوا اسمبلی میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور ہر مکتبۂ فکر پر مشتمل قومی جرگے کے متفقہ اعلامیے پر عمل درآمد میں ہے، اور مستقبل کے فیصلے عوامی نمائندوں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے کیے جانے چاہئیں۔

واضح رہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف نے منگل کو کہا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں فوجی آپریشنز کی مخالفت کی اور فوجی کارروائیوں سے گریز کو انہوں نے دہشت گردوں کے سامنے جھکنے کے مترادف قرار دیا تھا۔