اسلام آباد میں الخدمت فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام بنو قابل گریجویشن تقریب منعقد ہوئی، جس میں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ تقریب میں آئی ٹی کورسز مکمل کرنے والے 1,200 طلبہ و طالبات میں میڈلز، سرٹیفکیٹس اور نمایاں کارکردگی دکھانے والوں میں لیپ ٹاپ تقسیم کیے گئے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے تمام گریجویٹس کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان دستیاب مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں اور یہی پاکستان کا اصل سرمایہ ہیں۔ اتنے بڑے انسانی وسائل رکھنے والا ملک ترقی کی دوڑ میں پیچھے نہیں رہ سکتا۔

انہوں نے کہا کہ چاروں صوبوں اور وفاق کا مجموعی تعلیمی بجٹ تقریباً دو ٹریلین روپے ہے، اس کے باوجود پنجاب میں ایک کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، حکومت صرف نمائشی منصوبوں پر توجہ دیتی ہے، جب کہ آئین ہر بچے کو مفت تعلیم کی ضمانت دیتا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موٹرسائیکل استعمال کرنے والے ہر لیٹر پیٹرول پر بھاری ٹیکس ادا کر رہے ہیں اور حکومت غریب اور متوسط طبقے پر مالی بوجھ ڈال رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایسے آئی پی پیز کو 1,800 ارب روپے دیے جا رہے ہیں جو ایک یونٹ بجلی بھی پیدا نہیں کرتے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ اگر جماعت اسلامی کو حکومت بنانے کا موقع ملا تو ملک بھر میں یکساں معیار کی مفت تعلیم فراہم کی جائے گی۔ 'بنو قابل' پروگرام گیم چینجر ثابت ہوگا اور جماعت اسلامی ایک یونیورسٹی بھی قائم کرنے جا رہی ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جنریشن زی پاکستان کا مستقبل سنوارے گی اور نوجوانوں کی مثبت تربیت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ نوجوان اپنے ملک پر فخر کریں اور اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی ایک طبقے یا چند شخصیات کا نہیں بلکہ تمام شہریوں کا مشترکہ وطن ہے اور یہ ملک مصنوعی سہاروں کے بجائے اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر آگے بڑھے گا۔

اس سے قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ عالمی منڈی میں جنگ سے پہلے والی سطح پر تیل کی قیمتیں واپس آ چکی ہیں، لیکن حکومت نے صرف ایک روپے 97 پیسے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا، جو افسوسناک، شرمناک اور عوام دشمن فیصلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی نہ کر کے حکومت عوام کے حق پر ڈاکا ڈال رہی ہے اور انہیں عالمی منڈی میں قیمتوں میں ہونے والی کمی کا حقیقی فائدہ نہیں پہنچایا جا رہا۔

امیر جماعت اسلامی نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں کی عیاشیاں اور نااہلی کا بوجھ غریب اور متوسط طبقے پر ڈالا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے، جبکہ پٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسوں کے ذریعے عام شہریوں سے اضافی بوجھ وصول کیا جا رہا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اب یہ صورتحال مزید برداشت نہیں کی جائے گی اور عوام کو اپنے حقوق کے حصول کے لیے سڑکوں پر آنا ہوگا۔

انہوں نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کے شیڈول کا اعلان کرے گی۔