سماجی رابطے کی سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں ردعمل دیتے ہوئے امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ پٹرول کی قیمت میں 74 روپے فی لیٹر کمی عوامی دباؤ کا نتیجہ ہے، تاہم اصل ریلیف ابھی مکمل طور پر عوام تک منتقل نہیں ہوا۔

حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا کہ پٹرول کی قیمت کو مزید کم کرکے 225 روپے فی لیٹر پر لایا جائے اور اس پر عائد لیوی ختم کی جائے کیونکہ اس کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔

انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو کم از کم تین سال کے لیے منجمد کیا جائے تاکہ ملکی صنعت اور کاروباری طبقے کا اعتماد بحال ہو سکے۔

امیر جماعتِ اسلامی نے کہا ہے کہ اگر توانائی کی قیمتوں میں استحکام آتا ہے تو پاکستان کی مصنوعات عالمی منڈی میں زیادہ مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکیں گی اور برآمدات میں بہتری آئے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کو صرف پٹرول ہی نہیں بلکہ دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو بھی 28 فروری کی سطح پر واپس لانے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔