صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق بارشوں کے دوران پیش آنے والے مختلف حادثات میں اب تک 17 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جب کہ 107 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اموات میں بوسیدہ عمارتوں کے گرنے، آسمانی بجلی گرنے اور کرنٹ لگنے کے واقعات شامل ہیں۔
لاہور میں لکشمی چوک، ایکسپو سینٹر روڈ، بادامی باغ، لارنس روڈ، صفانوالہ چوک، مدینہ کالونی اور دیگر نشیبی علاقوں میں کئی فٹ پانی جمع ہو گیا، جس سے متعدد سڑکیں زیرِ آب آگئیں اور ٹریفک کئی گھنٹوں تک شدید متاثر رہی۔ کئی مقامات پر گاڑیاں پانی میں بند ہو گئیں جبکہ شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
لاہور میں بارش کے دوران ایک افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب سڑک پر جمع پانی میں بجلی کی لٹکتی تار سے کرنٹ لگنے کے باعث ایک موٹر سائیکل سوار جاں بحق ہو گیا، جس کے بعد شہریوں نے بارش کے دوران حفاظتی انتظامات اور بجلی کے نظام پر سوالات اٹھائے۔
دوسری جانب حکومت پنجاب نے نکاسی آب کے عمل کو کامیاب قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ، واسا، پی ڈی ایم اے اور دیگر اداروں نے ریکارڈ وقت میں پانی کی نکاسی کا عمل مکمل کیا۔
حکومتی بیان کے مطابق صوبے کے 41 اضلاع میں عملہ اور مشینری متحرک رہی، تمام انڈر پاسز کو کلیئر کیا گیا جبکہ بیشتر پانڈنگ ایریاز سے چند گھنٹوں میں پانی نکال کر ٹریفک بحال کر دی گئی۔
ادھر محکمہ آبپاشی کے مطابق دریائے چناب پر مرالہ بیراج میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے، جہاں پانی کی آمد دو لاکھ 24 ہزار 496 کیوسک جبکہ اخراج دو لاکھ 6 ہزار 496 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ قادرآباد بیراج پر بھی درمیانے درجے جبکہ خانکی بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب ہے، تاہم دیگر دریاؤں اور بیراجوں کی صورتحال معمول کے مطابق بتائی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران لاہور سمیت پنجاب، کشمیر اور بالائی علاقوں میں مزید موسلا دھار بارشوں، شہری سیلاب، مقامی ندی نالوں میں طغیانی اور مری و گلیات میں لینڈ سلائیڈنگ کے خدشے کا انتباہ جاری کیا ہے۔
محکمہ نے متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے اور شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز، نشیبی علاقوں، برساتی نالوں اور بجلی کی تنصیبات کے قریب احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔






