تحریکِ انصاف اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی شدید تنقید کے بعد حکمراں مسلم لیگ ن نے فی الحال پسپائی اختیار کرتے ہوئے بل کو دوبارہ متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا ہے، اور اس پر مزید پیش رفت اگست 2026 تک ٹال دی گئی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ خود پنجاب اسمبلی کے سپیکر ملک احمد خان کو بھی اس بل کے بارے میں لاعلم رکھا گیا۔ آٹھ جون کو جب یہ بل ایوان میں پیش ہوا تو اجلاس کی صدارت کوئی اور رکن کر رہے تھے، اور سپیکر کو بعد میں پتا چلنے پر انھوں نے کھلے عام ناراضی کا اظہار کیا کہ ایسا اہم بل ان کے دستخط اور علم کے بغیر کمیٹی کو کیسے بھیج دیا گیا۔
بل کہتا کیا ہے؟ یہ قانون صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی سطح پر ایسی ’انٹیلیجنس کمیٹیاں‘ بنانے کی تجویز دیتا ہے جو پولیس، سول افسران اور خفیہ اداروں کے نمائندوں پر مشتمل ہوں گی۔ ان کمیٹیوں کو یہ اختیار حاصل ہو گا کہ وہ کسی شخص کو ’سماج دشمن‘ یا ’عادی مجرم‘ قرار دے سکیں۔
ان مجرموں میں کے دائرے میں شراب و جوئے کے اڈے چلانے والوں سے لے کر جعلسازوں، دھمکی آمیز قبضہ گروپوں، افواہ سازوں اور یہاں تک کہ ’فحش زبان‘ استعمال کرنے والوں تک سب کچھ شامل ہے۔
ایک بار یہ ٹیگ لگ جائے تو متعلقہ شخص کا نام عارضی قومی شناختی فہرست میں ڈالا جا سکتا ہے، پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بلاک ہو سکتے ہیں، موبائل فون ضبط ہو سکتا ہے، سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کیے جا سکتے ہیں، اور عدالتی سزا کے بغیر ہی تین ماہ تک کے لیے الیکٹرانک مانیٹرنگ بریسلٹ پہنایا جا سکتا ہے۔
اعتراض کس بات پر ہے؟ پی ٹی آئی کے رکنِ اسمبلی رانا آفتاب اسے ’انگریز دور کے سخت قانون‘ سے تشبیہ دیتے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ یہاں فیصلہ کن اختیار عدالت کے بجائے ایک انتظامی کمیٹی کے ہاتھ میں دیا جا رہا ہے، جو محض شکایات اور انٹیلیجنس رپورٹس کی بنیاد پر کسی کی زندگی محدود کر سکتی ہے۔
ان کا خدشہ ہے کہ یہ قانون مستقبل میں اپوزیشن کو دبانے کا ہتھیار بھی بن سکتا ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بھی یہی تشویش دہرائی ہے کہ بل انتظامیہ کو ایسے وسیع اختیارات دیتا ہے جن میں مناسب عدالتی نگرانی کا فقدان ہے۔
حکومت کا دفاع بل پیش کرنے والے رکن خالد محمود رانجھا اس تنقید کو غیر ضروری قرار دیتے ہیں۔ آخری فیصلہ ہمیشہ جوڈیشل مجسٹریٹ کرے گا، نہ کہ کمیٹی، اور متاثرہ شخص کو دفاع کا پورا موقع ملے گا اور سیشن عدالت میں اپیل کا حق بھی حاصل ہو گا۔
خالد محمود رانجھا جو ایک سابق جج بھی ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں عارضی اور احتیاطی نوعیت کی ہیں، اور قانون کا مقصد جرم اور انتشار کو وقوع پذیر ہونے سے پہلے ہی روکنا ہے۔
فی الحال معاملہ کمیٹی کے پاس واپس جا چکا ہے اور حتمی فیصلہ اگست تک کے لیے موخر ہے، مگر بحث ابھی ختم نہیں ہوئی۔






