پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ موجودہ علاقائی اور عالمی حالات میں امتِ مسلمہ کو انتشار کے بجائے یکجہتی کی ضرورت ہے، عرب ممالک اور پوری اسلامی دنیا پر زور دیا کہ اختلافی معاملات کو مذاکرات اور باہمی مشاورت کے ذریعے حل کیا جائے تاکہ بیرونی قوتوں کو مسلمانوں کے درمیان فاصلے بڑھانے کا موقع نہ ملے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ حالات میں پاکستان نے ذمہ دارانہ سفارت کاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشیدگی میں کمی کے لیے مثبت کردار ادا کیا، بعض عناصر خطے میں اختلافات کو ہوا دینا چاہتے تھے، تاہم دانشمندانہ پالیسیوں کے ذریعے صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کی کوشش کی گئی۔
علامہ طاہر اشرفی نے بلوچستان کی حالیہ صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امن و امان کا قیام ریاست اور معاشرے دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے، دہشت گردی، انتہا پسندی اور بدامنی جیسے چیلنجز کا مقابلہ قومی اتحاد، باہمی اعتماد اور تمام طبقات کے تعاون سے ہی ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان علما کونسل سمیت مختلف مکاتبِ فکر کے علما اور مشائخ اس بات پر متفق ہیں کہ اسلام کسی بھی بے گناہ انسان کے قتل کی اجازت نہیں دیتا، مذہب کے نام پر تشدد، دہشت گردی اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے، اور ایسے اقدامات کی کوئی شرعی گنجائش موجود نہیں۔
مزید پڑھیں: آپریشن بنیان مرصوص میں پاک فوج کی کامیابی تاریخ ساز، دشمن کو 6 گنا برتری کے باوجود شکست دی گئی، طاہر اشرفی
علامہ طاہر اشرفی نے بتایا کہ محرم الحرام کے دوران ملک بھر میں "پیغامِ پاکستان" ضابطۂ اخلاق پر مجموعی طور پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کیا گیا، جس کے نتیجے میں مذہبی ہم آہنگی اور امن و امان کے قیام میں مدد ملی، قانون نافذ کرنے والے ادارے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کر رہے ہیں اور مستقبل میں بھی ایسے اقدامات جاری رہیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کو درپیش داخلی اور خارجی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قومی یکجہتی، مذہبی رواداری اور آئین و قانون کی پاسداری ناگزیر ہے، علما، مشائخ، سیاسی قیادت اور ریاستی اداروں کو مل کر ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں امن، استحکام اور بھائی چارے کو فروغ ملے اور ہر قسم کی انتہا پسندی کا مؤثر سدباب کیا جا سکے۔






