یہ اعلان وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے جمعہ کے روز پاسپورٹ اینڈ امیگریشن ہیڈکوارٹرز میں ایک خصوصی اجلاس کی صدارت کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد پاسپورٹ نظام کو زیادہ محفوظ، جدید اور عالمی معیار کے مطابق بنانا ہے۔
محسن نقوی کے مطابق ای پاسپورٹ نظام سے جعلسازی اور فراڈ کے امکانات تقریباً ختم ہو جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ای پاسپورٹ میں موجود جدید الیکٹرانک چپ کی مدد سے شہریوں کی بایومیٹرک اور شناختی معلومات محفوظ اور قابلِ اعتماد رہیں گی۔اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹس اینڈ امیگریشن محمد علی رندھاوا نے وزیر داخلہ کو جاری اصلاحات پر بریفنگ دی۔ اجلاس میں ای پاسپورٹس کے مکمل نفاذ کی اصولی منظوری دی گئی، تاہم مشین ریڈ ایبل پاسپورٹس کے خاتمے کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
ای پاسپورٹ ایک جدید سفری دستاویز ہے جس میں NFC ٹیکنالوجی پر مبنی چپ نصب ہوتی ہے، جو مسافروں کے بایومیٹرک ڈیٹا، شناختی معلومات اور ڈیجیٹل دستخط محفوظ رکھتی ہے۔ اس نظام کے ذریعے سرحدی مقامات پر تیز تر امیگریشن اور ای گیٹ سہولت میسر آئے گی۔
پاکستان کے ای پاسپورٹس بین الاقوامی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (ICAO) کے معیار کے مطابق ہیں، جس کے بعد پاکستانی مسافر دنیا بھر کے ہوائی اڈوں پر ای گیٹس استعمال کر سکیں گے اور امیگریشن کا عمل نسبتاً تیز ہو جائے گا۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ یکم جولائی سے ملک بھر کے پاسپورٹ دفاتر میں مکمل طور پر کیش لیس نظام نافذ کیا جائے گا،جس کے بعد نقد ادائیگی کا طریقہ ختم کر دیا جائے گا.
مزید پڑھیں: اسلام آباد مفاہمتی یادداشت،اسپیکر قومی اسمبلی کا تاریخی سفارتی کامیابی پر وزیراعظم کو خراجِ تحسین
حکام کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور ملکی شہریوں کے لیے پاسپورٹس کی گھر تک ترسیل کے منصوبے پر بھی ابتدائی کام مکمل کر لیا گیا ہے، جس پر جلد عملدرآمد شروع کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ آن لائن پاسپورٹ درخواستوں کے لیے پاک آئی ڈی پلیٹ فارم کو مزید فعال بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے تاکہ شہریوں کو آسان اور تیز تر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔






