تفصیلات کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ بنوں میں پیش آنے والا افسوسناک واقعہ انتہائی قابلِ مذمت ہے، جہاں معصوم شہریوں کو شہید کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اب تمام سیاسی اور قومی قوتوں کو متحد ہو کر دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑنی ہوگی تاکہ اس ناسور کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کیا جا سکے۔
وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے انڈیا اور افغانستان ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں شکست کے بعد بھی وہاں سے پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دیا جا رہا ہے، تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ ایسے عناصر کو شکست دی جائے۔
خواجہ آصف/پارلیمنٹ گفتگو
— PTV News (@PTVNewsOfficial) June 20, 2026
بنوں میں افسوسناک واقعہ پیش آیا بہت افسوس ہے۔
معصوم لوگوں کو شہید کیا گیا ہے۔
ہمارے وطن نے پچھلے ایک سال کے اندر جو حاصل کیا ہے، اب وقت آگیا ہے ہم اتحاد کے ساتھ دہشتگردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑیں تاکہ اس دہشتگردی کو ایک ہی بار جڑ سے ختم کیا جا سکے۔… pic.twitter.com/vmgUJPzphx
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کے ہر صوبے میں امن کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ان کے مطابق انڈیا کی جانب سے آزاد کشمیر میں امن خراب کرنے کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں، تاہم ایسے عناصر موجود ہیں جو انڈیا کے ایما پر آزاد کشمیر کے عوام کی قربانیوں کو فراموش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں آج بھی ظلم و ستم جاری ہے، کشمیری قیادت جیلوں میں قید ہے، جب کہ کشمیری عوام کی قربانیوں کی ایک طویل داستان ہے۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ پاکستان کے خلاف سرگرم کسی بھی گروہ کے روابط اگر انڈیا سے ثابت ہوں تو ایسے عناصر کے خلاف بلاامتیاز اور فیصلہ کن کارروائی ہونی چاہیے






