اسلام آباد میں فارماسیوٹیکل، ہیلتھ کیئر اور بائیوٹیکنالوجی سے متعلق پاک چین بزنس ٹو بزنس (B2B) کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چینی سفیر نے کہا کہ اس اہم تقریب میں شرکت ان کے لیے باعثِ خوشی ہے کیونکہ یہ فورم دونوں ممالک کے نجی شعبوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور نئی کاروباری شراکت داری قائم کرنے کا مؤثر ذریعہ ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اور چین کے درمیان بزنس ٹو بزنس تعاون کو فروغ دینے کا واضح وژن پیش کیا ہے، جس کا مقصد نجی شعبے کے درمیان براہ راست روابط بڑھانا، مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور صنعتی ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔
جیانگ زیڈونگ کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت چینی سرمایہ کاروں کو ملک میں سرمایہ کاری کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی خواہاں ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے متعدد مواقع پر چینی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کی دعوت دی ہے، جس سے دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
چینی سفیر نے بتایا کہ پاکستان میں چینی تعاون سے جاری مختلف ترقیاتی اور سرمایہ کاری منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ ان منصوبوں کی تکمیل سے 20 ہزار سے زائد نئے روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے، جو نہ صرف مقامی معیشت بلکہ صنعتی پیداوار اور برآمدات کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ صحت، فارماسیوٹیکل اور بائیوٹیکنالوجی ایسے شعبے ہیں جہاں پاکستان اور چین مشترکہ تحقیق، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی، ادویات کی تیاری اور طبی سہولیات کی بہتری کے لیے مل کر کام کر سکتے ہیں۔ ان شعبوں میں تعاون سے دونوں ممالک کو طویل المدتی معاشی اور سائنسی فوائد حاصل ہوں گے۔
جیانگ زیڈونگ نے مزید کہا کہ جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور انسانی وسائل کی استعداد کار میں اضافہ پاک چین تعاون کا اہم حصہ ہے، جبکہ نجی شعبے کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط مستقبل میں مشترکہ منصوبوں اور نئی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کریں گے۔
مزید پرھیں: اسحاق ڈار کا شنگھائی کا دورہ مکمل، پاکستان باضابطہ طور پر ورلڈ اے آئی کوآپریشن آرگنائزیشن کا رکن بن گیا
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاک چین بزنس ٹو بزنس تعاون دونوں ممالک کے سرمایہ کاروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط کرے گا، جس سے صنعتی ترقی، روزگار کے نئے مواقع، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور عوامی فلاح کے منصوبوں میں نمایاں پیش رفت ممکن ہوگی۔
کانفرنس کے شرکا نے بھی اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون کو صرف روایتی شعبوں تک محدود رکھنے کے بجائے صحت، بائیوٹیکنالوجی، فارماسیوٹیکل صنعت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور تحقیق کے میدان میں بھی مزید وسعت دی جائے تاکہ دونوں ممالک باہمی شراکت داری سے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کر سکیں۔






