پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ کارروائیاں آپریشن "غضب للحق" کے تحت کی گئیں، جن کا مقصد دہشت گرد عناصر اور ان کے نیٹ ورکس کا خاتمہ کرنا تھا، کارروائیاں انتہائی درست منصوبہ بندی اور مصدقہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر انجام دی گئیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ضلع باجوڑ میں کیے گئے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران چار دہشت گرد مارے گئے، جن میں ہائی ویلیو کمانڈر خان فروش عرف زبل بھی شامل ہے، ہلاک ہونے والے دیگر دہشت گرد بھارتی پراکسی تنظیم جماعت الاحرار سے وابستہ تھے، جو ملک میں دہشت گردی کی مختلف کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ پکتیا، پکتیکا اور کنڑ کے علاقوں میں جماعت الاحرار اور فتنہ الخوارج سے وابستہ دہشت گردوں کے خلاف بھی کامیاب کارروائیاں کی گئیں، جن میں دہشت گردوں کے تین اہم مراکز مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں مزید 25 دہشت گرد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر جنگی سامان بھی تباہ کر دیا گیا، جس سے ان کی کارروائیوں کی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
مزید پڑھیں: شہریوں کی حفاظت ترجیح، حالیہ دہشتگرد حملوں کے بعد بڑی کارروائی کی: عطا تارڑ
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے کہا کہ حالیہ دنوں میں خیبرپختونخوا، بلوچستان اور کراچی میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد سکیورٹی فورسز نے دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید مؤثر اور تیز کر دی ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد ملک میں امن و امان کی صورتحال کو مستحکم بنانا اور دہشت گرد نیٹ ورکس کا مکمل خاتمہ کرنا ہے۔
آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور ملک کے دفاع، قومی سلامتی اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھا جائے گا۔دہشت گردی کے خلاف جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ملک سے اس ناسور کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔






