ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ وہ عموماً سیاسی گفتگو سے گریز کرتے ہیں، تاہم آج ملک کے نظام پر بات کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقریب میں شریک افراد نے مختلف مسائل اور ان کے حل کی نشاندہی کی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو درپیش مشکلات کی جڑ وہ نظام ہے جو کئی دہائیوں سے مؤثر انداز میں نہیں چل سکا۔
کاکروچ اکٹھے ہوگئے تو سسٹم کو الٹ دیں گے، اس سے پہلے کچھ کرنا ہوگا
— Haqeeqat Pk (@haqeeqatpk01_) July 30, 2026
وزیر داخلہ محسن نقوی کا دبنگ خطاب pic.twitter.com/7fegPNqP1H
انہوں نے کہا کہ اگر یہی نظام برقرار رہا تو آئندہ بھی یہی مسائل برقرار رہیں گے۔ ان کے بقول ہم جس نظام میں رہ رہے ہیں وہ ناکام ہو چکا ہے، آپ مانیں یا نہ مانیں۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ جمہوریت کے حامی ہیں، لیکن جمہوریت کے اندر بھی مختلف طرزِ حکمرانی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف موجودہ نظام کو ہر قیمت پر چلانے کے بجائے اس میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود گندم سمیت دیگر اشیائے خورونوش درآمد کرنے پر مجبور ہے، جو نظام کی ناکامی کا ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف دن رات محنت کر رہے ہیں، لیکن صرف محنت کافی نہیں، کیونکہ موجودہ صورتحال میں حکومت صرف "فائر فائٹنگ" کر رہی ہے۔ ان کے مطابق جب تک بنیادی نظام کو جمہوریت کے دائرے میں رہتے ہوئے درست نہیں کیا جائے گا، مسائل برقرار رہیں گے۔
ایڈمنسٹریٹویونٹس،صوبے یا جونام دیں اس کوعوامی سطح تک لے کرجانا پڑےگا،محسن نقوی
— ARY NEWS (@ARYNEWSOFFICIAL) July 30, 2026
عام آدمی چھوٹی چھوٹی چیز کےلیے دھکے کھارہےہیں یہ ان کو انکے علاقےمیں ملنی چاہیے،محسن نقوی#ARYNews pic.twitter.com/HxdP3j47Xu
محسن نقوی نے کہا کہ موجودہ سیاسی نظام کو چلانے والے اور اس کی مالی معاونت کرنے والے لوگ بھی معاشرے میں موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابات سے قبل کروڑوں روپے کی فنڈنگ کی جاتی ہے اور یہی نظام آگے چلتا رہتا ہے، جبکہ عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم نہیں ہو پاتیں۔
انہوں نے عدالتی نظام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ اس میں بہتری کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں، لیکن آج بھی عام شہری انصاف کے حصول کے لیے گھنٹوں سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ ان کے مطابق عوام کو ان کے علاقوں میں ہی بنیادی سرکاری اور عدالتی سہولتیں میسر ہونی چاہئیں، جس کے لیے انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات ضروری ہیں۔
نوجوانوں سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ نوجوانوں کو چند ہزار روپے یا ٹیبلیٹس دے کر مطمئن نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق نوجوان صرف ایک ایسا نظام چاہتے ہیں جہاں انہیں میرٹ پر روزگار اور ترقی کے مواقع ملیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی نوجوان عالمی سطح پر ماہانہ ہزاروں ڈالر کمانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن اس کے لیے انہیں بہتر نظام دینا ہوگا۔
جس نظام میں ہم رہ رہےہیں یہ ناکام ہوچکا ہے آپ مانیں یا نہ مانیں،وزیرداخلہ محسن نقوی#ARYNews pic.twitter.com/qm6ejAqHwO
— ARY NEWS (@ARYNEWSOFFICIAL) July 30, 2026
انہوں نے کہا کہ اگر نوجوان اپنی طاقت کے ساتھ سڑکوں پر آگئے تو وہ ہر چیز الٹ سکتے ہیں، اس لیے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کے لیے میرٹ پر روزگار اور ترقی کے مواقع پیدا کرے۔
معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ وفاقی حکومت ہر سال بجٹ بناتے وقت نئے قرضوں کا حساب لگاتی ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ملک کا قرض مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق صرف قرض لے کر معیشت نہیں چلائی جا سکتی، بلکہ بنیادی معاشی اصلاحات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو ایک میز پر بیٹھ کر ملک کے مستقبل کے لیے فیصلے کرنا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے انتظامی یونٹس اور بہتر طرزِ حکمرانی کے بغیر مسائل کا مستقل حل ممکن نہیں، اور اب وقت آ گیا ہے کہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد میں فیصلے کیے جائیں۔






