ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ وہ عموماً سیاسی گفتگو سے گریز کرتے ہیں، تاہم آج ملک کے نظام پر بات کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقریب میں شریک افراد نے مختلف مسائل اور ان کے حل کی نشاندہی کی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو درپیش مشکلات کی جڑ وہ نظام ہے جو کئی دہائیوں سے مؤثر انداز میں نہیں چل سکا۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہی نظام برقرار رہا تو آئندہ بھی یہی مسائل برقرار رہیں گے۔ ان کے بقول ہم جس نظام میں رہ رہے ہیں وہ ناکام ہو چکا ہے، آپ مانیں یا نہ مانیں۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ جمہوریت کے حامی ہیں، لیکن جمہوریت کے اندر بھی مختلف طرزِ حکمرانی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف موجودہ نظام کو ہر قیمت پر چلانے کے بجائے اس میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود گندم سمیت دیگر اشیائے خورونوش درآمد کرنے پر مجبور ہے، جو نظام کی ناکامی کا ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف دن رات محنت کر رہے ہیں، لیکن صرف محنت کافی نہیں، کیونکہ موجودہ صورتحال میں حکومت صرف "فائر فائٹنگ" کر رہی ہے۔ ان کے مطابق جب تک بنیادی نظام کو جمہوریت کے دائرے میں رہتے ہوئے درست نہیں کیا جائے گا، مسائل برقرار رہیں گے۔

محسن نقوی نے کہا کہ موجودہ سیاسی نظام کو چلانے والے اور اس کی مالی معاونت کرنے والے لوگ بھی معاشرے میں موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابات سے قبل کروڑوں روپے کی فنڈنگ کی جاتی ہے اور یہی نظام آگے چلتا رہتا ہے، جبکہ عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم نہیں ہو پاتیں۔

انہوں نے عدالتی نظام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ اس میں بہتری کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں، لیکن آج بھی عام شہری انصاف کے حصول کے لیے گھنٹوں سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ ان کے مطابق عوام کو ان کے علاقوں میں ہی بنیادی سرکاری اور عدالتی سہولتیں میسر ہونی چاہئیں، جس کے لیے انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات ضروری ہیں۔

نوجوانوں سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ نوجوانوں کو چند ہزار روپے یا ٹیبلیٹس دے کر مطمئن نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق نوجوان صرف ایک ایسا نظام چاہتے ہیں جہاں انہیں میرٹ پر روزگار اور ترقی کے مواقع ملیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی نوجوان عالمی سطح پر ماہانہ ہزاروں ڈالر کمانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن اس کے لیے انہیں بہتر نظام دینا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اگر نوجوان اپنی طاقت کے ساتھ سڑکوں پر آگئے تو وہ ہر چیز الٹ سکتے ہیں، اس لیے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کے لیے میرٹ پر روزگار اور ترقی کے مواقع پیدا کرے۔

معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ وفاقی حکومت ہر سال بجٹ بناتے وقت نئے قرضوں کا حساب لگاتی ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ملک کا قرض مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق صرف قرض لے کر معیشت نہیں چلائی جا سکتی، بلکہ بنیادی معاشی اصلاحات کی ضرورت ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو ایک میز پر بیٹھ کر ملک کے مستقبل کے لیے فیصلے کرنا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے انتظامی یونٹس اور بہتر طرزِ حکمرانی کے بغیر مسائل کا مستقل حل ممکن نہیں، اور اب وقت آ گیا ہے کہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد میں فیصلے کیے جائیں۔