ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ہونے والی گفتگو میں اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ پاکستان خطے اور اس سے باہر امن، استحکام اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے اپنا مثبت، ذمہ دار اور تعمیری کردار مستقبل میں بھی پوری سنجیدگی سے جاری رکھے گا،  پاکستان ہمیشہ تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری، مذاکرات اور باہمی احترام کے اصولوں پر یقین رکھتا ہے اور اسی پالیسی کے تحت خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ علاقائی حالات میں مستقل رابطے، اعتماد سازی اور سفارتی تعاون نہایت اہم ہیں، کیونکہ یہی عوامل خطے میں دیرپا امن اور استحکام کی بنیاد بن سکتے ہیں،  پاکستان تمام دوست ممالک کے ساتھ مل کر امن، ترقی اور خوشحالی کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے کام کرتا رہے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خطے میں امن کی کوششوں اور سفارتی عمل کی حمایت پر پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا، مشکل حالات میں پاکستان نے ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا ہے، جسے تہران قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

عباس عراقچی نے ایرانی سفارتی عملے کے ارکان اور ایرانی ماہی گیروں کی بحفاظت وطن واپسی میں پاکستان کے تعاون پر بھی خصوصی اظہار تشکر کیا، انسانی بنیادوں پر پاکستان کی معاونت دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات اور باہمی اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔

گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے اس امر پر بھی اتفاق کیا کہ پاکستان اور ایران خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال پر مسلسل مشاورت اور قریبی رابطے برقرار رکھیں گے تاکہ مشترکہ چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے اور باہمی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

مزید پڑھیں: پاکستان پیس میکر بن گیا، اب معاشی قوت بننا ہے، اسحاق ڈار

دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان برادرانہ تعلقات، اقتصادی تعاون، سرحدی روابط اور سفارتی اشتراک کو مزید وسعت دینے کے لیے رابطوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

واضح رہے کہ اس رابطے کو ایسے وقت میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے جب مشرق وسطیٰ اور خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان اور ایران کے درمیان مسلسل سفارتی رابطے نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ خطے میں امن، استحکام اور اعتماد سازی کی کوششوں کے لیے بھی اہم سمجھے جا رہے ہیں۔