وزیراعظم کے وفد میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر نیئر حسین بخاری اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سمیت دیگر اہم شخصیات بھی شامل ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اپنے دورۂ ایران کے دوران ایرانی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں بھی کریں گے، جن میں مرحوم رہنما کے انتقال پر تعزیت کے ساتھ ساتھ پاکستان اور ایران کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات، باہمی تعاون اور خطے کی مجموعی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال متوقع ہے۔
وزیراعظم حکومت اور عوامِ پاکستان کی جانب سے ایرانی قیادت اور سوگوار خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کریں گے، جبکہ اس موقع پر برادر ایرانی قوم کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی اور تعاون کے عزم کا بھی اعادہ کریں گے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے اور مشکل وقت میں پاکستان کی جانب سے ایران کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا اہم پیغام بھی ہوگا۔
مزید پڑھیں: ترکیہ اسرائیل بڑھتی کشیدگی، مشرقِ وسطیٰ میں نئی محاذ آرائی ابھرنے لگی
دورۂ ایران مکمل کرنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف تہران سے ترکیہ روانہ ہوں گے، جہاں وہ ترک قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ استنبول میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران دوطرفہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی امن، اقتصادی تعاون اور باہمی دلچسپی کے دیگر اہم امور پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔
حکومت کے مطابق ایران اور ترکیہ کے یہ دورے پاکستان کی فعال سفارت کاری کا حصہ ہیں، جن کا مقصد خطے کے اہم دوست ممالک کے ساتھ سیاسی، اقتصادی اور سفارتی تعاون کو مزید فروغ دینا ہے۔






