ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ اور دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ اس موقع پر پاکستان اور کروشیا کے درمیان باہمی تعلقات، علاقائی صورتحال اور مشترکہ دلچسپی کے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کروشیا کے وزیر خارجہ اور ان کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور کروشیا کے درمیان تعلقات باہمی احترام، اعتماد اور خیرسگالی پر مبنی ہیں، جنہیں مزید مضبوط بنانے کے لیے دونوں ممالک کو موجودہ مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اقتصادی سفارتکاری کو فروغ دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اسی تناظر میں کروشیا کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، سیاحت، ٹرانسپورٹ، رابطہ کاری اور ہنرمند افرادی قوت کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تجارتی حجم میں اضافے کی گنجائش موجود ہے، جبکہ نجی شعبے کے درمیان روابط کو مضبوط بنا کر کاروباری اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں، باقاعدہ تجارتی وفود کے تبادلے اور مشترکہ کاروباری سرگرمیوں سے دوطرفہ معاشی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
شہباز شریف نے کروشیا کے صدر زوران میلانووچ اور وزیراعظم آندرے پلینکووچ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں کو مناسب وقت پر پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت بھی دی۔
ملاقات کے دوران خطے کی مجموعی صورتحال، عالمی امور اور باہمی دلچسپی کے دیگر معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ دونوں رہنماؤں نے مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے امکانات کا جائزہ لیا اور دوطرفہ روابط کو مزید مؤثر بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اس موقع پر کروشیا کے وزیر خارجہ ڈاکٹر گورڈن گرلیچ راڈمین نے وزیراعظم شہباز شریف کی میزبانی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا دورہ ان کے لیے باعثِ مسرت ہے اور انہیں یقین ہے کہ اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
مزید پڑھیں: پاکستان، کروشیا کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور لیبر موبیلیٹی بڑھانے پر اتفاق،اسحاق ڈار کی کروشئین ہم منصب کیساتھ مشترکہ پریس کانفرنس
انہوں نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں علاقائی امن کے فروغ کے لیے مثبت کردار ادا کیا ہے، جسے کروشیا قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
کروشین وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت پاکستان کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، اقتصادی تعاون، انفارمیشن ٹیکنالوجی، توانائی، تعلیم، سیاحت اور دیگر شعبوں میں تعلقات کو مزید فروغ دینے کی خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں شراکت داری کے وسیع امکانات موجود ہیں، جن سے فائدہ اٹھا کر باہمی تعاون کو نئی جہت دی جا سکتی ہے۔
ڈاکٹر گورڈن گرلیچ راڈمین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کروشیا پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا، تاکہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور سفارتی روابط مزید مستحکم ہو سکیں۔






