نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کی دعوت پر استنبول پہنچے ہیں، جہاں دونوں رہنما پاکستان اور ترکیہ کے دوطرفہ تعلقات کے تمام شعبوں پر تفصیلی بات چیت کریں گے۔ ملاقات میں بالخصوص تجارت، سرمایہ کاری اور باہمی اقتصادی تعاون کے فروغ پر توجہ دی جائے گی۔ دونوں رہنما علاقائی امن و سلامتی کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔

وزیراعظم شہباز شریف اپنے دورۂ استنبول کے دوران پاکستان کی میزبانی میں منعقد ہونے والی ایک کاروباری کانفرنس سے بھی خطاب کریں گے، جس میں خصوصی اقتصادی زونز، توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، نجکاری اور دیگر شعبوں میں پاکستان میں سرمایہ کاری اور کاروباری مواقع کو اجاگر کیا جائے گا۔

اس کانفرنس میں ترکیہ کے ممتاز کاروباری رہنما، سرمایہ کار، اعلیٰ سرکاری حکام اور دیگر اہم شخصیات شرکت کریں گی۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی خصوصی دعوت پر وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے مرحوم سپریم لیڈر، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کی تھی۔

انہوں نے ایران میں پاکستان کے اعلیٰ سطحی وفد کی قیادت کی، جس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر بھی شامل تھے۔

علاوہ ازیں، اعلیٰ سطحی وفد میں وفاقی وزرا محسن نقوی، عطا اللہ تارڑ، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور دیگر اعلیٰ حکومتی حکام بھی شامل تھے۔ وزیراعظم نے اسلام کے لیے شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی گراں قدر خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کئی دہائیوں تک ایرانی قوم کی رہنمائی کی۔

وزیراعظم نے اس قومی سانحے پر ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور مرحوم کے لیے مغفرت کی دعا بھی کی۔ سینیٹ کے چیئرمین یوسف رضا گیلانی، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، ارکانِ پارلیمان اور وزیراعلیٰ سندھ نے بھی آخری رسومات میں شرکت کی۔