دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وفاقی کابینہ کے متعدد ارکان اور اعلیٰ سرکاری حکام بھی دورے میں شریک ہوں گے۔ یہ دورہ پاکستان کے دونوں دوست ممالک کے ساتھ سیاسی، سفارتی اور اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
سرکاری پروگرام کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف پہلے ایران پہنچیں گے، جہاں وہ مرحوم ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی تقریبات میں شرکت کریں گے۔ اس موقع پر وہ ایرانی قیادت، حکومتی عہدیداروں اور سوگوار خاندان سے ملاقات کر کے حکومت اور عوامِ پاکستان کی جانب سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کریں گے۔
وزیراعظم اپنے ایرانی ہم منصب اور دیگر اعلیٰ حکام سے بھی ملاقاتیں کریں گے، جن میں دوطرفہ تعلقات، باہمی تعاون، علاقائی صورتحال اور مشترکہ دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔ پاکستان اس موقع پر ایران کے ساتھ اپنی دیرینہ دوستی اور یکجہتی کے عزم کا بھی اعادہ کرے گا۔
ایران کا دورہ مکمل کرنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف ترکیہ روانہ ہوں گے، جہاں وہ ترک صدر رجب طیب اردوان کی دعوت پر استنبول میں ان سے اہم ملاقات کریں گے۔ ملاقات کے دوران پاک۔ترکیہ تعلقات کو مزید وسعت دینے، دوطرفہ تجارت کے حجم میں اضافے، سرمایہ کاری، دفاعی تعاون، توانائی، علاقائی امن و استحکام اور دیگر اہم شعبوں میں اشتراکِ عمل پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔
دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم استنبول میں پاکستان کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ایک اہم بزنس کانفرنس سے بھی خطاب کریں گے۔ کانفرنس میں ترکیہ کی معروف کاروباری شخصیات، سرمایہ کار، صنعت کار، سرکاری نمائندے اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے اہم شرکا شریک ہوں گے۔
وزیراعظم اپنے خطاب میں پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع، خصوصی اقتصادی زونز، توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر، نجکاری اور دیگر ترجیحی شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی حکومتی پالیسیوں کو اجاگر کریں گے۔ حکومت کو امید ہے کہ اس کانفرنس کے ذریعے ترک سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں اضافہ ہوگا اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی شراکت داری مزید مضبوط ہوگی۔
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کا یہ دورہ نہ صرف پاکستان، ایران اور ترکیہ کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ خطے میں امن، استحکام، اقتصادی تعاون اور مشترکہ ترقی کے فروغ کے لیے بھی اہم پیش رفت ثابت ہونے کی توقع ہے۔






