اجلاس کو بتایا گیا کہ اس وقت ملک بھر میں دانش اسکولوں کے 29 منصوبے زیرِ غور ہیں، جن میں سے 15 کی منظوری دی جا چکی ہے، جب کہ 13 پر تعمیراتی کام جاری ہے۔ اس کے علاوہ دانش اسکول کُری، اسلام آباد میں تدریسی سرگرمیوں کا آغاز بھی ہو چکا ہے۔
بورڈ کو بتایا گیا کہ آزاد کشمیر کے باغ اور بھمبر، جب کہ گلگت بلتستان کے گھانچھے، سلطان آباد اور استور میں دانش اسکولوں کی تعمیر دسمبر تک مکمل ہو جائے گی، جب کہ ان میں کلاسز کا آغاز اپریل 2027ء میں کیا جائے گا۔
دانش اتھارٹی بورڈ نے دانش اسکولوں کے اساتذہ کی تربیت کے لیے بین الاقوامی معیار کا ٹیچرز ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ قائم کرنے کی منظوری بھی دی۔ بتایا گیا کہ یہ ادارہ قائم ہونے کے بعد ملک بھر کے تربیتی اداروں کے لیے ایک ماڈل ادارے کی حیثیت اختیار کرے گا۔
اجلاس کو دانش اتھارٹی کے مجوزہ انتظامی ڈھانچے پر بھی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اتھارٹی کا انتظامی ڈھانچہ مختصر رکھا جائے اور اس پر کم سے کم وسائل خرچ کیے جائیں۔
اسلام آباد: 29 جولائی 2026.
— Prime Minister s Office (@PakPMO) July 29, 2026
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت دانش اتھارٹی بورڈ کا پہلا اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا. وزیرِ اعظم نے نے اجلاس میں بورڈ ارکان اور شرکاء کا خیر مقدم کیا.
گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ اس اہم ذمہ داری کو قبول کرنے پر بورڈ کے ارکان… pic.twitter.com/8Lm2tJzu63
بورڈ اجلاس نے دانش اسکول اتھارٹی رولز، منیجنگ ڈائریکٹر رولز اور دیگر قواعد کی اصولی منظوری بھی دی، جس کے بعد ضابطے کے مطابق ضروری کارروائی مکمل کی جائے گی۔
اسی طرح اجلاس میں دانش اسکولوں کو الاٹ کی گئی تمام اراضی دانش اسکول اتھارٹی کے نام منتقل کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اس اہم ذمہ داری کو قبول کرنے پر وہ بورڈ کے ارکان کے تہہ دل سے مشکور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاشی طور پر کمزور بچوں کو یکساں تعلیم اور ترقی کے مواقع فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، جب کہ دانش اسکولوں کی بنیاد بھی اسی فلسفے کے تحت رکھی گئی، جہاں غریب اور مستحق طلبہ کو میرٹ پر داخلہ اور معیاری تعلیم فراہم کی جاتی ہے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ تمام زیرِ تعمیر دانش اسکول مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں اور تمام زیرِ تعمیر و نئے دانش اسکولوں میں طلبہ و طالبات کے لیے سو فیصد بورڈنگ کی سہولت فراہم کی جائے۔
وزیراعظم نے مزید ہدایت کی کہ وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تعاون سے دانش اسکولوں کے نصاب میں آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز کی تربیت کو لازمی حصہ بنایا جائے۔
شہباز شریف نے کہا کہ نصاب میں پراجیکٹ اور اسکل بیسڈ لرننگ کے ساتھ ساتھ طلبہ کی شخصیت سازی کے لیے بھی خصوصی کورسز شامل کیے جائیں۔
اجلاس میں دانش اسکول اتھارٹی کے ارکان کو حالیہ پیش رفت اور کارکردگی سے متعلق جائزہ رپورٹ بھی پیش کی گئی۔






