انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی قوتوں، ریاستی اداروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ بٹھا کر نیشنل ڈائیلاگ شروع کیا جائے۔ اس عمل کے لیے ضروری ہے کہ بانی پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے اور آئندہ عوام کے مینڈیٹ کا مکمل احترام یقینی بنایا جائے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ عوام کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ جسے چاہیں ووٹ دیں اور جسے چاہیں مسترد کریں۔ انتخابی نظام میں اصلاحات کرتے ہوئے متناسب نمائندگی کی بنیاد پر انتخابات کرائے جائیں تاکہ ووٹر افراد کے بجائے سیاسی جماعتوں کے منشور اور پالیسیوں کو سامنے رکھ کر فیصلہ کریں۔

انہوں نے عدالتی نظام میں اصلاحات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آئینی ترامیم کے ذریعے عدلیہ کو یرغمال بنایا گیا، اسے آزاد کیا جائے اور ججز کی تعیناتی مکمل طور پر میرٹ پر کی جائے۔ تمام ریاستی اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔

بلدیاتی نظام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مقامی حکومتوں کو حقیقی اختیارات دیے جائیں، بروقت بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں اور آئین میں بلدیاتی حکومتوں کے لیے الگ اور واضح باب شامل کیا جائے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ انتظامی بنیادوں پر نئے یونٹس اور نئے صوبوں کے قیام پر قومی اتفاق رائے پیدا کیا جا سکتا ہے، جب کہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے مسائل کے حل کے لیے ایک بڑے قومی جرگے یا قومی کمیشن کی تشکیل ضروری ہے۔

انہوں نے معدنیات اور قدرتی وسائل کے لیے جامع قومی پالیسی بنانے، پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر فوری عملدرآمد اور صنعتوں کی ترقی کے لیے بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ بھی کیا۔

معاشی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستان میں بجلی وافر مقدار میں موجود ہے لیکن ناقص پالیسیوں اور کیپسٹی پیمنٹ کا بوجھ عوام پر ڈالا جا رہا ہے۔ موجودہ نظام میں چند افراد کو فائدہ پہنچانے کے لیے عوام سے اضافی قیمت وصول کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آنے والا دور مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ہے، اس لیے نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں بنیادی مواقع فراہم کیے جائیں اور ملک میں بڑے ڈیٹا سینٹرز قائم کیے جائیں۔

مزید پڑھیں: پیپلز پارٹی رہنما کا محسن نقوی کے استعفے کا مطالبہ؛  نئے صوبوں پر غیر آئینی بیانات دینے والے وزارتِ داخلہ چھوڑ دیں 

زرعی شعبے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے جاگیردارانہ نظام کے خاتمے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ کارپوریٹ فارمنگ مسائل کا حل نہیں، بلکہ کوآپریٹو فارمنگ کے ذریعے کسان، حکومت اور دیگر متعلقہ فریق مل کر زرعی پیداوار میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کپاس اور گندم کی پیداوار بہتر بنانے پر بھی زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ کھیلوں کے اداروں کو گراس روٹ سطح پر فروغ دیا جائے، جب کہ مقابلے کے امتحانات اردو زبان میں بھی منعقد کیے جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو مساوی مواقع مل سکیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ ملک کے سیاسی، معاشی اور آئینی بحرانوں کا پائیدار حل صرف نیشنل ڈائیلاگ کے ذریعے ممکن ہے، بصورت دیگر عوام میں مایوسی اور نفرت میں مزید اضافہ ہوگا۔