اپنے جاری کردہ بیان میں بیرسٹر سیف نے کہا کہ محسن نقوی کے ریمارکس وفاقی حکومت کی کارکردگی کے خلاف ایک مکمل چارج شیٹ کے مترادف ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ملک کو درپیش انتظامی اور حکومتی مسائل سنگین صورت اختیار کر چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر نوجوانوں کو درپیش مسائل، بے روزگاری، محرومیوں اور مایوسی کا بروقت تدارک نہ کیا گیا تو عوامی ردعمل مزید شدت اختیار کر سکتا ہے،  ایسے حالات میں سڑکوں پر ہونے والے احتجاج پارلیمان اور دیگر آئینی اداروں کے متبادل کے طور پر سامنے آسکتے ہیں، جو کسی بھی جمہوری نظام کے لیے تشویشناک صورتحال ہوگی۔

بیرسٹر سیف نے زور دیا کہ حکومت کو نوجوان نسل کے بڑھتے ہوئے غصے اور بے چینی کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور ایسے فیصلے کرنے چاہییں جن کے فوری اور مثبت نتائج سامنے آئیں، محض بیانات سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں نئے صوبوں کے قیام یا انتظامی اصلاحات کے ذریعے گورننس کا نظام بہتر بنایا جا سکتا ہے تو اس معاملے پر فوری پیش رفت کی جانی چاہیے، مؤثر انتظامی ڈھانچہ، اختیارات کی بہتر تقسیم اور عوامی مسائل کے بروقت حل سے ہی نظام کو مستحکم کیا جا سکتا ہے۔

سابق مشیر اطلاعات نے مزید کہا کہ عوام کا ریاستی اداروں اور حکومتی نظام پر اعتماد بحال کرنے کے لیے گورننس میں نمایاں بہتری لانا ضروری ہے، شفاف، مؤثر اور عوام دوست حکمرانی ہی موجودہ چیلنجز سے نکلنے اور سیاسی و معاشی استحکام کی جانب پیش رفت کا واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔