اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں "The Future We Want: A Global Initiative for Young Leaders" کے عنوان سے منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ نوجوان کسی بھی معاشرے کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں اور پاکستان کی آبادی کا تقریباً 65 فیصد حصہ 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے، جو ملک کے روشن، پرامن اور ترقی یافتہ مستقبل کی ضمانت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ نوجوان صرف مستقبل کے رہنما نہیں بلکہ آج بھی مثبت تبدیلی کے مؤثر محرک ہیں۔ اگر انہیں تعلیم، مواقع اور فیصلہ سازی کے عمل میں مناسب نمائندگی دی جائے تو وہ نہ صرف اپنے ممالک بلکہ پوری دنیا میں امن، استحکام اور ترقی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ اقوام متحدہ کے قیام کا بنیادی مقصد آئندہ نسلوں کو جنگوں کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھنا تھا اور یہی وژن آج بھی عالمی امن کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے،  امن صرف جنگ کے خاتمے کا نام نہیں بلکہ انصاف، مساوات، انسانی حقوق کے احترام، باہمی اعتماد اور اقوام متحدہ کے منشور پر مکمل عمل درآمد سے ہی دیرپا امن قائم کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان کے مستقل مندوب نے کہا کہ موجودہ عالمی منظرنامے میں دنیا متعدد پیچیدہ چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، جن میں مسلح تنازعات، غیر ملکی قبضے، انسانی بحران، بڑھتی ہوئی عالمی تقسیم، موسمیاتی تبدیلی، غربت اور اقتصادی عدم مساوات شامل ہیں، ایسے مسائل کا حل کسی ایک ملک کے بس کی بات نہیں بلکہ اس کے لیے عالمی سطح پر مضبوط تعاون، مؤثر سفارت کاری اور مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ پرامن بقائے باہمی، خودمختار ریاستوں کی برابری، بین الاقوامی قانون کے احترام اور تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کرتا آیا ہے، پاکستان کا مؤقف ہے کہ اختلافات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی احترام کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔

عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد 2788 (2025) کی متفقہ منظوری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کی فعال اور مثبت سفارت کاری کا واضح ثبوت ہے،  اس قرارداد نے عالمی سطح پر مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے تنازعات کے حل کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا اور بین الاقوامی برادری نے بھی اس مؤقف کی بھرپور حمایت کی۔

انہوں نے مغربی ایشیا میں حالیہ کشیدہ صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہر مرحلے پر تحمل، کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل پر زور دیا، طاقت کا استعمال مسائل کو مزید پیچیدہ بناتا ہے، جبکہ مستقل امن صرف سیاسی مکالمے اور سفارتی کوششوں سے ہی ممکن ہے۔

پاکستانی مندوب نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ تعلیمی اداروں، مقامی برادریوں، سماجی تنظیموں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر امن، برداشت، رواداری اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے عملی کردار ادا کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ نوجوان غلط معلومات، نفرت انگیز بیانیے اور عدم برداشت کے رجحانات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کریں اور مختلف تہذیبوں، ثقافتوں اور معاشروں کے درمیان اعتماد اور ہم آہنگی کو فروغ دیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان نے غزہ امن منصوبے میں حماس کے غیر مسلح ہونے کے عمل کی حمایت کر دی

انہوں نے کہا کہ آج کے نوجوان کل کے سفارت کار، قانون ساز، پالیسی ساز اور عالمی رہنما ہیں، اس لیے انہیں بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق، مکالمے اور عالمی یکجہتی کی اقدار کو فروغ دینے میں پیش پیش رہنا چاہیے تاکہ دنیا کو زیادہ پرامن، منصفانہ اور پائیدار بنایا جا سکے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر عاصم افتخار احمد نے عالمی نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ تقسیم، نفرت اور تصادم کے بجائے تعاون، مکالمے، امید اور مشترکہ ترقی کا راستہ اختیار کریں،  آنے والی نسلوں کا محفوظ، خوشحال اور پرامن مستقبل اسی صورت ممکن ہے جب نوجوان عالمی سطح پر مثبت تبدیلی کے سفیر بن کر اپنا کردار ادا کریں اور انسانیت کے مشترکہ مفاد کو ہر چیز پر ترجیح دیں۔