یہ اعلان لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں ہونے والے ایک اہم اجلاس کے بعد سامنے آیا، جہاں منی مزدا ایسوسی ایشن کے وفد نے مرکزی صدر تنویر احمد جٹ کی قیادت میں لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمٰن سہگل سے ملاقات کی۔ ملاقات میں ٹرانسپورٹ انڈسٹری کو درپیش مسائل، حکومتی پالیسیوں، ٹیکسوں میں اضافے اور کاروباری سرگرمیوں پر ان کے اثرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمٰن سہگل نے کہا کہ منی مزدا سروس ملک کے ٹرانسپورٹ نظام کا ایک اہم حصہ ہے اور لاکھوں خاندانوں کا روزگار اس شعبے سے وابستہ ہے، اس لیے اس صنعت کو مشکلات سے نکالنے کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ گاڑیوں کی ٹرانسفر فیس میں حالیہ اضافہ فوری طور پر واپس لیا جائے، کیونکہ اس فیصلے سے ٹرانسپورٹرز پر غیر ضروری مالی بوجھ پڑا ہے، اگر کسی گاڑی میں نان کسٹم پیڈ سامان پایا جاتا ہے تو قانون کے مطابق گاڑی ضبط کرنے کے بجائے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے تاکہ بے گناہ ٹرانسپورٹرز کو نقصان نہ اٹھانا پڑے۔

صدر لاہور چیمبر نے ٹوکن ٹیکس میں تقریباً 200 فیصد اضافے پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ معاشی حالات میں اس قسم کے فیصلے ٹرانسپورٹ انڈسٹری کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہے ہیں، لہٰذا حکومت اس اضافے کو فوری طور پر واپس لے۔

اس موقع پر پاکستان منی مزدا ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر تنویر احمد جٹ نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز نے اس سے قبل پنجاب حکومت کی یقین دہانی پر اپنی ہڑتال ختم کی تھی، تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حکومت کی جانب سے کیا گیا ایک بھی وعدہ عملی شکل اختیار نہیں کر سکا۔

انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹ برادری کے تمام جائز مطالبات آج بھی حل طلب ہیں، جبکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ٹرانسپورٹ سیکٹر کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث کاروبار چلانا روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

تنویر احمد جٹ نے بتایا کہ ملک بھر کی گڈز ٹرانسپورٹ تنظیموں سے مشاورت مکمل کر لی گئی ہے اور متفقہ طور پر آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ اگر حکومت نے فوری طور پر مطالبات تسلیم نہ کیے تو ملک گیر سطح پر دوبارہ پہیہ جام ہڑتال کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کے دوران عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے اشیائے خورونوش اور ادویات کی ترسیل کو ممکنہ طور پر جاری رکھا جائے گا، تاہم دیگر تجارتی سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں، جس کے بعد حکومت پر مطالبات تسلیم کرنے کے لیے دباؤ مزید بڑھے گا۔

مرکزی صدر منی مزدا ایسوسی ایشن نے مزید کہا کہ ٹرانسپورٹرز نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فہیم الرحمٰن سہگل کو حکومت اور ٹرانسپورٹ برادری کے درمیان ثالث کے طور پر قبول کرنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ مذاکرات کے ذریعے مسائل کا پائیدار حل نکالا جا سکے۔

انہوں نے زور دیا کہ ٹرانسپورٹ سیکٹر معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور اس شعبے کو نظر انداز کرنے کے نتائج ملکی تجارت، صنعت اور سپلائی چین پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر کے ٹرانسپورٹرز اپنے حقوق کے حصول کے لیے متحد ہیں اور اگر حکومت نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تو احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی۔

اجلاس کے اختتام پر لاہور چیمبر اور منی مزدا ایسوسی ایشن نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ٹرانسپورٹ انڈسٹری کے مسائل کے حل اور کاروباری سرگرمیوں کے تسلسل کے لیے حکومت کے ساتھ مثبت اور نتیجہ خیز مذاکرات جاری رکھے جائیں گے تاکہ ملکی معیشت پر منفی اثرات سے بچا جا سکے۔