ملاقات میں سیلاب اور اسموگ سے نمٹنے کے لیے امریکی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے، لاہور میں پنجاب یو ایس بزنس اینڈ انویسٹمنٹ فورم کے انعقاد اور باہمی کاروباری و تکنیکی روابط مضبوط بنانے کی تجاویز پر بھی غور کیا گیا
امریکی سفیر نے خواتین کی فلاح و بہبود اور بااختیار بنانے کے لیے وزیراعلیٰ مریم نواز کے اقدامات کو سراہا
لاہور میں ہونے والی ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے قائم مقام امریکی سفیر نیٹلی اے بیکر کا پرتپاک خیرمقدم کیا
دونوں رہنماؤں نے پنجاب اور امریکا کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے، کاروباری روابط بڑھانے اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا
ملاقات میں فروغ تعلیم، سیکیورٹی، سرمایہ کاری، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل اثاثوں اور توانائی سمیت باہمی دلچسپی کے متعدد شعبے زیرِ بحث آئے
پنجاب اور امریکا کے درمیان تکنیکی تعاون کو فروغ دینے اور کاروباری روابط مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا
ملاقات میں پنجاب کو درپیش ماحولیاتی چیلنجز، خصوصاً سیلاب اور اسموگ سے نمٹنے کے لیے تعاون پر بھی بات ہوئی۔
اس موقع پر سیلاب اور سموگ کی روک تھام اور بہتر انتظام کے لیے امریکی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
لاہور میں پنجاب یو ایس بزنس اینڈ انویسٹمنٹ فورم کے انعقاد کی تجویز کا بھی جائزہ لیا گیا، جس کا مقصد پنجاب اور امریکا کے درمیان سرمایہ کاری، تجارت اور کاروباری روابط کو مزید مستحکم کرنا ہے۔
قائم مقام امریکی سفیر نیٹلی اے بیکر نے خواتین کی فلاح و بہبود اور بااختیار بنانے کے لیے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے اقدامات کو سراہا
انہوں نے لاہور میں بسنت فیسٹیول کے انعقاد اور محفوظ بسنت کے لیے حکومت پنجاب کی جانب سے کیے گئے اقدامات کی بھی تعریف کی
نیٹلی اے بیکر نے کہا کہ انہیں پاکستان، بالخصوص پنجاب اور لاہور کے لوگ بہت پسند ہیں، کیونکہ یہاں کے لوگ زندہ دل ہیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ آئندہ سال بسنت میلے کو مزید وسعت دی جائے گی
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے قانونی اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے نئی پالیسیاں بھی تشکیل دی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا میں مقیم تقریباً 10 لاکھ پنجاب کے اوورسیز پاکستانی ملک کا قابلِ قدر اثاثہ ہیں اور پنجاب حکومت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ساتھ روابط کو بھی اہمیت دیتی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ پنجاب میں خواتین کی آمدورفت میں آسانی کے لیے الیکٹرک اسکوٹی اور الیکٹرو بس سروس شروع کی گئی ہے، جبکہ خواتین کو مالی طور پر خودمختار بنانے کے لیے سمال بزنس کے لیے بلاسود قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں
انہوں نے بتایا کہ خواتین کے تحفظ کے لیے ڈائریکٹ پنک بٹن اور ورچوئل پولیس اسٹیشن جیسے اقدامات بھی متعارف کرائے گئے ہیں
مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب بدل رہا ہے اور صوبے کے شہر اور دیہات میں اصلاحات کا عمل جاری ہے
پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ کی حیثیت سے انہوں نے ویمن ایمپاورمنٹ کو محض علامتی اقدام کے بجائے عملی شکل دینے کے عزم کا اظہار کیا
وزیراعلیٰ نے کہا کہ مون سون کے دوران پیشگی اقدامات اور ڈسٹرکٹ واسا کے قیام سے بارشی پانی کے جلد نکاس کو ممکن بنایا گیا ہے۔
ان کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیش نظر پنجاب میں نئی پالیسیوں کی تشکیل اور مؤثر اقدامات پر توجہ دی جا رہی ہے۔
ملاقات کے اختتام پر پنجاب اور امریکا کے درمیان باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے، کاروباری و سرمایہ کاری روابط مضبوط بنانے اور تکنیکی شعبوں میں شراکت داری بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا گیا
واضح رہے کہ پنجاب اور امریکا کے درمیان تعلیم، سرمایہ کاری، تجارت، توانائی، ماحولیات اور تکنیکی شعبوں میں تعاون کے امکانات گزشتہ عرصے میں مسلسل اہمیت اختیار کرتے رہے ہیں۔
پنجاب میں موسمیاتی تبدیلی، شہری سیلاب اور اسموگ جیسے چیلنجز کے باعث بین الاقوامی ماہرین اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے
اسی تناظر میں مریم نواز شریف اور امریکی قائم مقام سفیر کی ملاقات میں اقتصادی و تکنیکی تعاون کے ساتھ ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے اور خواتین کو معاشی و سماجی طور پر بااختیار بنانے کے اقدامات بھی نمایاں طور پر زیرِ بحث آئے۔







