قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ اپنے دیرینہ سیاسی اور ذاتی تعلقات کا ذکر کیا،مولانا فضل الرحمان ملک کی سیاست میں ایک اہم اور باوقار مقام رکھتے ہیں اور ان کے ساتھ ان کا رشتہ ہمیشہ احترام، محبت اور باہمی اعتماد پر مبنی رہا ہے۔

وزیراعظم نے گفتگو کے دوران کہا کہ وہ اکثر مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے لیے جاتے ہیں اور ان کی عزت و تکریم کو اپنے لیے باعثِ فخر سمجھتے ہیں۔ انہوں نے  کہا کہ وہ مولانا صاحب کی ’’قدم بوسی‘‘ کے لیے بھی حاضر ہوتے رہتے ہیں، جس پر ایوان میں مسکراہٹیں بکھر گئیں۔

اپنی تقریر میں شہباز شریف نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ مختلف قومی اور سیاسی معاملات پر کئی بار تفصیلی بات چیت ہوئی، تاہم ان ملاقاتوں میں ہونے والی بعض گفتگو نجی نوعیت کی تھی، اس لیے وہ مناسب نہیں سمجھتے کہ ان باتوں کو ایوان میں زیرِ بحث لایا جائے۔

وزیراعظم کی اس بات پر مولانا فضل الرحمان نے برجستہ انداز میں مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ اگر تنہائی میں کوئی بات ہوئی ہے تو وزیراعظم اسے ایوان میں بیان کرسکتے ہیں، انہیں اس کی مکمل اجازت ہے۔ مولانا کے اس جملے پر ایوان کا ماحول مزید خوشگوار ہوگیا اور ارکان اسمبلی نے بھی دلچسپی کا اظہار کیا۔

مولانا کی پیشکش پر وزیراعظم شہباز شریف نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ وہ اس اجازت سے فائدہ نہیں اٹھائیں گے،اگر وہ ان ملاقاتوں اور نجی گفتگو کی تفصیلات بیان کرنے لگے تو بات بہت آگے تک نکل جائے گی، اس لیے بہتر یہی ہے کہ ان معاملات کو راز ہی رہنے دیا جائے۔

شہباز شریف نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ہونے والی تمام نجی گفتگو امانت ہے اور وہ اس امانت کی حفاظت کو اپنا فرض سمجھتے ہیں، مولانا صاحب سے ہونے والی باتیں ’’قبر تک ساتھ جائیں گی‘‘ اور وہ مستقبل میں بھی ان رازوں کو افشا نہیں کریں گے۔

وزیراعظم کے ان ریمارکس پر ایوان میں قہقہے گونج اٹھے جبکہ حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے بھی اس دوستانہ ماحول کو خوب سراہا۔ کچھ دیر کے لیے اجلاس کی سنجیدہ فضا خوشگوار لمحات میں تبدیل ہوگئی اور ارکان اسمبلی دونوں رہنماؤں کے درمیان جاری دلچسپ مکالمے سے لطف اندوز ہوتے رہے۔

بعدازاں مولانا فضل الرحمان نے بھی وزیراعظم کے اظہارِ محبت اور احترام کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ شہباز شریف کے جذبات کی قدر کرتے ہیں اور ان کے الفاظ کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ مولانا نے کہا کہ سیاست میں اختلافِ رائے اپنی جگہ، تاہم باہمی احترام، شائستگی اور برداشت ہی وہ اقدار ہیں جو سیاسی نظام کو مضبوط بناتی ہیں۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والا یہ خوشگوار مکالمہ نہ صرف ارکان اسمبلی بلکہ سیاسی حلقوں میں بھی موضوعِ گفتگو بن گیا، جہاں اسے پارلیمانی روایات اور باہمی احترام کی ایک مثبت مثال قرار دیا جارہا ہے۔