جمعیت لائرز فورم کے زیر اہتمام وکلاء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کا مقام کیا ہے، میں شہید کے مقام کو بھی جانتا ہوں اور تمہیں بھی جانتا ہوں کہ تمہاری نظر میں شہید کی کیا قدر و منزلت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اس ملک کے ساتھ وفاداری کا حلف اٹھایا ہے اور کبھی یہ نہیں چاہا کہ کوئی ایسا اقدام کریں جو آئین اور قانون سے تجاوز ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر جماعت کو آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے نظریات کے پرچار کا حق حاصل ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام نے ہمیشہ فعال سیاست کی ہے اور کبھی انتہا پسندی کی سیاست نہیں کی۔ اگر حقِ خودارادیت کا مطالبہ کیا تو وہ بھی عوامی تائید کے ساتھ کیا۔

انہوں نے کہا کہ آج سیاست، پارلیمنٹ اور آئین کو یرغمال بنا دیا گیا ہے۔ ان کے بقول موجودہ حکمرانوں نے اپنے رویوں اور خوشامد کے ذریعے عوام، پارلیمنٹ اور آئین کو کمزور جبکہ اسٹیبلشمنٹ کو مضبوط کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپنے حقوق کا مطالبہ کرنا خوشامد نہیں بلکہ جمہوری حق ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے اجلاسوں میں وہ بارہا سوال اٹھاتے رہے کہ طویل جدوجہد کے باوجود جمہوریت مضبوط ہوئی یا آمرانہ قوتیں مزید طاقتور ہو گئیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو خواہشات کے ساتھ پیدا کیا، مگر ساتھ ہی قانون نازل کیا تاکہ انسان خواہشات کے بجائے قانون کی پیروی کرے، کیونکہ یہی چیز معاشرے میں اعتدال پیدا کرتی ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ دہشت گردی امریکا کی خواہش ہے اور پاکستان کے حکمران اس خواہش کو پورا کر رہے ہیں، جبکہ مذہب کی ایسی تصویر پیش کی جا رہی ہے کہ لوگ اسلام سے متنفر ہو جائیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ان کی جماعت نے ہمیشہ امن، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کی بات کی ہے۔ ان کے مطابق دنیا بھر میں قوانین انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے بنائے جاتے ہیں اور جب قانون مضبوط ہو تو کسی کے حقوق پامال نہیں ہوتے۔

انہوں نے مدارس کے حوالے سے کہا کہ وفاق المدارس کے تحت دینی مدارس اسلامی علوم کی خدمت کر رہے ہیں اور حکومت ان کے نصاب، تعلیمی اور مالیاتی نظام کی تصدیق بھی کر چکی ہے، مگر اس کے باوجود مدارس کی رجسٹریشن اور بینک اکاؤنٹس کے مسائل حل نہیں کیے جا رہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت مسئلہ حل نہیں کرنا چاہتی۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ان کی جماعت نے ملک کو پرامن بنانے کی کوشش کی، تاہم سوال اٹھایا کہ جب ایک گروہ ہتھیار اٹھا کر افغانستان جا رہا تھا تو کیا اس کا راستہ روکا گیا؟ بلکہ انہیں حوصلہ دیا گیا اور طالبان سے مذاکرات کے لیے اس وقت کے آئی ایس آئی سربراہ بھی گئے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ دہشت گردوں کو حوصلہ افزائی ریاستی صفوں سے ملی۔

کارگل جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قوم کو کبھی نہیں بتایا گیا کہ کارگل میں کتنے فوجی شہید ہوئے اور کتنی لاشیں وصول کی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تم اپنے شہداء کے جنازے وصول کرنے کے لیے بھی تیار نہیں تھے، کرنل شیر خان کی میت بھی بھارت کے اصرار پر وصول کی گئی۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان ایک ادارہ جاتی ریاست ہے اور ہر ادارے کا اپنا آئینی دائرہ کار متعین ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ کسی ادارے کو اس کی ذمہ داریوں کی یاددہانی کراتے ہیں تو اس کا مقصد آئین کی بالادستی ہے، کیونکہ مجھے میرے ماں باپ نے سرنڈر کرنے کے لیے نہیں جنا۔

دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے جے یو آئی (ف) کے وکلاء کنونشن سے اظہارِ لاتعلقی کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد میں ایک سیاسی جماعت کے لائرز کنونشن سے بار ایسوسی ایشن کا کوئی تعلق نہیں۔

بار ایسوسی ایشن کے مطابق مذکورہ وکلاء کنونشن میں اس کا نہ کوئی کردار ہے اور نہ ہی وہ اس کی تائید یا حمایت کرتی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تاثر دینا درست نہیں کہ اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اس تقریب سے وابستہ ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بیرسٹر قاسم نواز عباسی نے کہا کہ بار ایسوسی ایشن آئین کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں پر اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتی ہے۔