میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ دینی مدارس پاکستان کے تعلیمی اور مذہبی نظام کا اہم حصہ ہیں، اس لیے ان کے جائز مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جانا چاہیے، مدارس کو درپیش مشکلات کے خاتمے کے لیے وہ متعلقہ اداروں اور حکام کے ساتھ رابطے میں رہیں گے تاکہ قابلِ عمل اور دیرپا حل نکالا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ مدارس کے بینک اکاؤنٹس سے متعلق مسائل کے حل کے لیے گورنر سمیت دیگر متعلقہ حکام سے بھی بات کریں گے، اگر کسی قانونی یا انتظامی رکاوٹ کی وجہ سے مدارس کو مشکلات کا سامنا ہے تو ان رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے مشاورت اور تعاون کے ذریعے پیش رفت کی جائے گی۔
مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ خیبرپختونخوا سمیت ملک کے مختلف حصوں میں دینی مدارس کو جن مسائل کا سامنا ہے، ان کے حل کے لیے تمام متعلقہ فریقین کو مل کر کام کرنا ہوگا، مدارس کی خدمت صرف کسی ایک طبقے کی نہیں بلکہ پوری ریاست اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی ایک دینی مدرسے کے طالب علم رہے ہیں اور انہیں اپنی اس تعلیمی وابستگی پر فخر ہے، دینی مدارس نے انہیں دینی علوم کے ساتھ ساتھ معاشرتی ذمہ داریوں کا شعور بھی دیا، جس پر وہ ہمیشہ شکر گزار رہیں گے۔
مولانا طاہر اشرفی نے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی دنیا کے ایک اہم رہنما سے ملاقات کے دوران ان سے پوچھا گیا کہ آیا انہوں نے کسی غیر ملکی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی ہے، جس پر انہوں نے جواب دیا کہ انہیں اس بات پر فخر ہے کہ وہ پاکستان کے ایک دینی مدرسے کے فارغ التحصیل ہیں۔
مزید پڑھیں: ایک پرتشدد جتھے کو کشمیر کی ترقی، امن اور پاکستان سے اس کا اٹوٹ رشتہ قبول نہیں، عطاء اللہ تارڑ
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دینی مدارس نے ہمیشہ مذہبی تعلیم، قومی یکجہتی، سماجی اصلاح اور فلاحی سرگرمیوں میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، مدارس کے لاکھوں طلبہ ملک و قوم کی خدمت میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں، اس لیے ان اداروں کے جائز انتظامی، مالی اور بینکاری سے متعلق مسائل کو سنجیدگی سے حل کیا جانا چاہیے۔
چیئرمین پاکستان علما کونسل نے اس امید کا اظہار کیا کہ حکومت، متعلقہ ادارے اور مدارس کی نمائندہ تنظیمیں باہمی مشاورت کے ذریعے ایسے اقدامات کریں گی جن سے مدارس کے مسائل حل ہوں گے اور تعلیمی سرگرمیاں مزید مؤثر انداز میں جاری رہ سکیں گی،اس بات پر بھی زور دیا کہ تمام معاملات کو قانون اور ضابطوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے تاکہ دینی مدارس کا نظام مزید مضبوط اور مستحکم ہو سکے۔







