اس بار مگر روایت کے برعکس کچھ دیکھنے کو مل رہا ہے، ایک طرف نومنتخب قیادت کو مبارکبادیں دی جا رہی ہیں تو دوسری جانب انتخابی مہم کے دوران کیے گئے وعدے، الزامات اور تلخ جملے بھی یاد دلائے جا رہے ہیں۔
ویسے تو صحافیوں کے انتخابات میں صحافیوں کی دلچسپی ہوتی ہے مگر اس بار پنجاب حکومت بھی کافی متحرک نظر آئی ہے۔ صوبائی وزیرِ اطلاعات عظمٰی بخاری نے الیکشن سے دو روز قبل جہاں امیدوار صدر ارشد انصاری کو سپورٹ کرنے کا اعلان کیا، وہیں انہوں نے مخالفین کو کالی بھیڑیں کہا، جس پر صحافی حلقوں میں کافی بحث بھی دیکھنے کو ملی۔
اب جب کہ ارشد انصاری باقاعدہ طور پر صدر بن چکے ہیں تو یہ سوال ایک بار پھر سامنے آیا ہے کہ وہ جنہیں ’کالی بھیڑیں‘ کہا گیا، وہ تو انتخابات میں ہار گئے ہیں تو کیا اب صحافیوں کے لیے فیز ٹو کالونی بنے گی یا پھر یہ بھی ماضی کی طرح بس الیکشن جیتنے کے لیے سلوگن تک ہی محدود ہوکر رہ جائے گی؟
انتخابات کا عمل مکمل ہونے کے بعد ہارنے والے صدارتی امیدوار اعظم چودھری نے نتائج کو تسلیم کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ اپنی کمیونٹی کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ انتخابات میں حصہ لینے والا ہر فرد، چاہے وہ کامیاب ہوا ہو یا نہیں، اس جمہوری عمل کا حصہ ہے اور اس کا مقصد صرف ذاتی کامیابی نہیں بلکہ صحافی برادری کے اجتماعی مفادات کا تحفظ ہونا چاہیے۔
تاہم اصل سوال اب فیز ٹو ہاؤسنگ اسکیم پر آ کر رک گیا ہے۔ یہ وہ منصوبہ ہے جسے 2023 میں منظور تو کر لیا گیا تھا، مگر دو برس گزرنے کے باوجود عملی پیش رفت نہ ہو سکی۔ انتخابی مہم کے دوران یہی فیز ٹو وعدوں اور دعوؤں کا مرکزی نکتہ رہا، مگر ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ صرف ووٹ لینے کے لیے یاد رکھا گیا، جب کہ اس پر سنجیدہ کام نظر نہیں آیا۔
اعظم چودھری سمیت کئی صحافیوں کا موقف ہے کہ اگر انتخابات سے قبل فروری میں فیز ٹو دینے کا وعدہ کیا گیا تھا تو اب اس وعدے کو پورا کیا جانا چاہیے۔
ان کا مطالبہ ہے کہ جعلی یا نامکمل ماسٹر پلان کے بجائے اصل اور منظور شدہ منصوبے کے تحت پلاٹس دیے جائیں، الاٹمنٹ لیٹر جاری کیے جائیں اور شفاف قرعہ اندازی کے ذریعے تمام حقداروں کو ان کا حق دیا جائے۔
اس معاملے میں ایک اور حساس پہلو وہ الزامات ہیں، جن کے مطابق گزشتہ دو برسوں میں چند مخصوص افراد کو مبینہ طور پر انڈر ہینڈ پلاٹس دیے گئے۔
صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر واقعی نئی قیادت شفافیت اور برابری کی بات کرتی ہے تو اسے ’پک اینڈ چوز‘ کی پالیسی ختم کر کے سب کے لیے یکساں اصول اپنانا ہوں گے۔
دوسری جانب صحافیوں کے حقوق، روزگار کے تحفظ اور اظہارِ رائے کی آزادی کا معاملہ بھی انتخابی نعروں سے نکل کر عملی اقدامات کا تقاضا کر رہا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ گزشتہ برسوں میں میڈیا ہاؤسز کے دباؤ، حکومتی مداخلت، نوکریوں سے برطرفیوں اور صحافیوں کے خلاف مقدمات کے باوجود پریس کلب کا کردار کمزور نظر آیا۔ اب نئی قیادت کے لیے یہ ایک بڑا امتحان ہے کہ وہ واقعی صحافیوں کی آواز بن پاتی ہے یا نہیں۔
حکومتی سطح پر وزیراعلیٰ پنجاب اور گورنر پنجاب کی جانب سے نو منتخب قیادت کو مبارکباد اور تعاون کے اعلانات ضرور سامنے آئے ہیں، مگر صحافتی برادری کا ماننا ہے کہ اصل کامیابی بیانات میں نہیں بلکہ عملی اقدامات میں ہوگی۔ فیز ٹو کی الاٹمنٹ، کلب کے اندرونی مسائل کا حل اور صحافیوں کے حقوق کا تحفظ وہ کسوٹیاں ہیں جن پر نئی قیادت کو پرکھا جائے گا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے لاہور پریس کلب کے نو منتخب صدر ارشد انصاری اور دیگر عہدیداروں کو مبارکباد دی۔ اپنے پیغام میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ امید ہے لاہور پریس کلب اپنی شاندار صحافتی روایات کا تسلسل برقرار رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت عوام کی خدمت کے مشن میں میڈیا کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے اور صحافیوں کے لیے گھروں کی تعمیر میں بھرپور معاونت فراہم کی جائے گی۔
مریم نواز نے سینئر نائب صدر سلمان قریشی، نائب صدر ناصر ہ عتیق، نائب صدر مدیحہ الماس، جنرل سیکرٹری افضال طالب، جوائنٹ سیکرٹری عمران شیخ اور فنانس سیکرٹری سالک نواز سمیت گورننگ باڈی کے تمام نو منتخب اراکین کو بھی مبارکباد دی اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: انتظامی غفلت کا خمیازہ ملازمین نہیں بھگتیں گے، سپریم کورٹ
اسی طرح گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے بھی لاہور پریس کلب کے نو منتخب صدر ارشد انصاری، سینئر نائب صدر سلمان قریشی، نائب صدور، جنرل سیکرٹری اور دیگر عہدیداران کو مبارکباد دی۔
گورنر پنجاب نے کہا کہ امید ہے نومنتخب باڈی صحافیوں کی فلاح و بہبود، ان کے حقوق کے تحفظ اور اعلیٰ صحافتی اقدار کے فروغ کے لیے فعال اور مؤثر کردار ادا کرے گی۔
اسی طرح لاہور پریس کلب کے انتخابات کے بعد صحافتی برادری کی جانب سے اس امید کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ نئی قیادت نہ صرف انتخابی وعدوں کی تکمیل کرے گی بلکہ صحافیوں کو درپیش مسائل کے حل اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات بھی کرے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ جن حلقوں نے انتخابی مہم میں سخت زبان استعمال کی اور بعض صحافیوں کو ’کالی بھیڑیں‘ کہا، کیا وہ اپنے من پسند لوگوں کو اقتدار میں دیکھنے کے بعد واقعی سب کے لیے یکساں مواقع اور حقوق فراہم کریں گے؟ یا یہ الزامات اور وعدے بھی ماضی کی طرح انتخابی نعروں کی نذر ہو جائیں گے؟ لاہور پریس کلب کے نتائج تو آ چکے ہیں، اب نگاہیں وعدوں کی تکمیل پر جمی ہیں۔






