شیخ رشید کے مطابق وہ عمرے کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب جا رہے تھے۔ ایک ویڈیو بیان میں انہوں نے بتایا کہ جسٹس صداقت علی خان نے انہیں عمرے پر جانے کی اجازت دی تھی اور عدالتی حکم نامہ متعلقہ اداروں کو بھی بھیجا جا چکا تھا۔ ان کے مطابق عدالت نے واضح طور پر ہدایت کی تھی کہ ان کے سفر میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ کی جائے۔

سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ جب وہ ایئرپورٹ پہنچے تو امیگریشن حکام نے انہیں سفر سے روک دیا، حالانکہ انہوں نے عدالت کا حکم نامہ دکھایا۔ شیخ رشید نے کہا کہ وہ اب توہین عدالت کی درخواست کے لیے دوبارہ جسٹس صداقت علی خان کی عدالت سے رجوع کریں گے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس ملک میں ہائی کورٹ کے احکامات پر عمل نہ ہو، وہاں انسان صرف آسمان کی طرف دیکھ کر اللہ سے مدد مانگ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اللہ مجھے عمرہ بھی کرائے گا اور جنہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے، انہیں اپنے عمل پر شرمندہ ہونا پڑے گا۔