لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ حکومت پنجاب نے مون سون سے قبل ہی تمام متعلقہ اداروں کو متحرک کر دیا تھا، جس کے باعث بارش کے دوران نکاسیٔ آب کا نظام مؤثر انداز میں کام کرتا رہا،  لاہور سمیت مختلف شہروں میں غیر معمولی بارشیں ریکارڈ ہوئیں، تاہم واسا، ضلعی انتظامیہ اور دیگر اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اہم شاہراہوں، انڈر پاسز اور نشیبی علاقوں سے پانی کی فوری نکاسی کو یقینی بنایا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب شہری انفراسٹرکچر کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ ان کے مطابق صوبے بھر میں 189 کلومیٹر طویل واٹر ڈرینز تعمیر کیے جا رہے ہیں، 27 نئے ڈسپوزل اسٹیشنز قائم کیے جا رہے ہیں جبکہ 59 موجودہ ڈسپوزل اسٹیشنز کی استعداد کار میں اضافہ کیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں بارشوں کے دوران شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

وزیر اطلاعات نے بتایا کہ واسا کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس 969 نئی مشینیں فراہم کی گئی ہیں جو پنجاب کے مختلف اضلاع میں استعمال کی جا رہی ہیں،اگر کسی ضلع میں اضافی مشینری کی ضرورت پیش آئے تو فوری طور پر قریبی اضلاع سے بھی آلات اور عملہ فراہم کیا جاتا ہے تاکہ نکاسیٔ آب کا عمل متاثر نہ ہو۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ لاہور میں 450 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی جبکہ گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور نارووال میں بھی شدید بارش ہوئی، لیکن متعلقہ اداروں نے مسلسل فیلڈ میں موجود رہ کر صورتحال کو قابو میں رکھا اور شہریوں کو زیادہ مشکلات پیش نہیں آنے دیں۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز مون سون کی صورتحال کی خود نگرانی کرتی رہیں اور ہر ضلع سے موصول ہونے والی رپورٹس کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جاتا رہا۔ ان کے مطابق "ستھرا پنجاب" پروگرام، واسا، ریسکیو اداروں اور ضلعی انتظامیہ نے مشترکہ حکمت عملی کے تحت اپنی ذمہ داریاں انجام دیں، جبکہ دریاؤں، ڈیموں اور بیراجوں کی صورتحال پر بھی مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران عظمیٰ بخاری نے کہا کہ حکومت پنجاب شہری سہولیات کی بہتری کے لیے مختلف ترقیاتی منصوبوں پر بھی تیزی سے کام کر رہی ہے، بجلی کی لٹکتی تاروں کو مرحلہ وار زیرزمین منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ شہروں کی خوبصورتی کے لیے  بیوٹیفکیشن منصوبوں پر بھی پیش رفت جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انڈر گراؤنڈ وائرنگ کا منصوبہ حکومت پنجاب اپنے وسائل سے مکمل کر رہی ہے۔

انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ مون سون کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں، بچوں کو بجلی کے کھمبوں، کھلے مین ہولز اور نشیبی علاقوں سے دور رکھیں، جبکہ خستہ حال عمارتوں اور کمزور چھتوں کے قریب جانے سے بھی گریز کریں،  حکومت کی جانب سے "محفوظ چھت پروگرام" کے تحت مستحق افراد کو گھروں کی تعمیر یا نئی منزل کی تعمیر کے لیے 10 لاکھ روپے تک مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔

مزید پڑھیں: پنجاب میں مون سون بارشوں سے اب تک 29 افراد جاں بحق، 200 سے زائد زخمی ہو چکے، پی ڈی ایم اے

وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ مری اور دیگر پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات کے پیش نظر سیاحوں کو بروقت آگاہ کیا جا رہا ہے، جبکہ ہر ضلع میں فلڈ کنٹرول رومز قائم کیے جا چکے ہیں جہاں بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔

آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ میرپور ڈویژن کے عوام نے احتجاجی سیاست کو مسترد کرتے ہوئے جمہوری عمل میں بھرپور حصہ لیا،  مختلف پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز کی بڑی تعداد اور طویل قطاریں اس بات کا ثبوت ہیں کہ عوام ووٹ کی طاقت پر یقین رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے آزاد کشمیر میں اپنی انتخابی مہم کارکردگی، عوامی خدمت اور ترقیاتی منصوبوں کی بنیاد پر چلائی ہے،  پنجاب میں گرین بس، لیپ ٹاپ اسکیم، اسکالرشپ پروگرام، "اپنا گھر" منصوبہ، فنی تربیت اور روزگار سے متعلق اقدامات کو عوام نے سراہا ہے۔

عظمیٰ بخاری نے دعویٰ کیا کہ آزاد کشمیر کے عوام بھی پنجاب کی طرز پر ترقی، جدید سہولیات اور عوامی فلاحی منصوبے اپنے علاقوں میں دیکھنا چاہتے ہیں،  سیاسی جماعتوں کو بے بنیاد الزامات لگانے کے بجائے اپنی کارکردگی، منشور اور عوامی خدمت کی بنیاد پر ووٹ مانگنا چاہیے، کیونکہ فیصلہ ہمیشہ عوام کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔