ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں گزشتہ برسوں کے دوران بڑے پیمانے پر ترقیاتی کام کیے گئے، جنہیں اپوزیشن شاید تسلیم نہ کرے، لیکن عوام ان منصوبوں کے اثرات کو ضرور محسوس کریں گے۔
سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قائم علی شاہ نے کہا کہ گزشتہ 18 برسوں کے دوران سندھ میں تاریخی نوعیت کے ترقیاتی منصوبے مکمل کیے گئے ہیں اور صوبے میں پاکستان پیپلز پارٹی کی کارکردگی نمایاں رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبوں کو نئے این ایف سی ایوارڈ کی اشد ضرورت ہے، جب کہ کئی ایسے محکمے اب بھی وفاق کے پاس موجود ہیں جنہیں صوبوں کو منتقل کیا جانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ آصف علی زرداری نے 2010 میں این ایف سی ایوارڈ پر عمل درآمد یقینی بنایا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوں گے اور نہ ہی کسی دباؤ میں آئیں گے۔
دوسری جانب سندھ اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف علی خورشیدی نے صوبائی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سندھ میں کرپشن کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا اور بعض سرکاری افسران کمیشن کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔
علی خورشیدی نے کہا کہ حکومت جس بجٹ کو کامیاب قرار دے رہی ہے، وہ درحقیقت سندھ کے عوام کو مزید خسارے میں دھکیلنے کا باعث بنے گا۔
انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان پیپلز پارٹی وفاق میں اپنے عہدوں، بشمول صدر مملکت، چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی، سے استعفے دلوا دے تو متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے وفاقی وزراء بھی استعفے دینے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ کم گریڈ کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کم از کم 20 فیصد اضافہ کیا جائے اور سندھ پولیس کے اہلکاروں کی تنخواہیں پنجاب پولیس کے مساوی کی جائیں۔ اس کے علاوہ مختلف محکموں کے ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن کے مسائل بھی فوری طور پر حل کیے جائیں۔
اپوزیشن لیڈر نے مزید کہا کہ صوبے کے عوام جاننا چاہتے ہیں کہ سانحہ گل پلازہ کیسے پیش آیا، لہٰذا اس سانحے سے متعلق کمیشن کی رپورٹ کو منظرِ عام پر لایا جانا چاہیے۔






