نجی نشریاتی ادارے جیو نیوز نے پارٹی کے اعلیٰ ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان نے اسمبلیوں میں موجود تحریک انصاف کے ارکان کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے سیاسی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق عمران خان نے خیبرپختونخوا حکومت اور اس کے ارکانِ اسمبلی کو استعفوں سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کے مطابق اسمبلیوں میں موجود پارٹی ارکان کے طرزِ عمل سے موجودہ حکمرانوں کو تقویت ملی، جب کہ وہ ان کے لیے کسی قسم کا سیاسی ریلیف حاصل کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہو سکے۔
ذرائع کے مطابق نو مئی کے مقدمات کے باعث ان کے لیے کسی رعایت کا امکان بھی نظر نہیں آتا۔
پختونخوا کے سوا تمام اسمبلیوں سے استعفیٰ دیں، عمران خان کی پارٹی رہنماؤں کو ہدایتhttps://t.co/lK8KOxXYQN
— Geo News Urdu (@geonews_urdu) July 19, 2026
دوسری جانب تحریک انصاف کے ایک قریبی اور بااثر ذریعے نے ان اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان نے اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی کوئی ہدایت جاری نہیں کی۔
ذرائع کے مطابق اس مبینہ پیغام کے بعد پارٹی کے اندر اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔ قومی اسمبلی میں تحریک انصاف سے وابستہ 79 آزاد ارکان کی اکثریت استعفوں کے حق میں نہیں۔
ان کا مؤقف ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں میں دوبارہ فعال کردار ادا کرتے ہوئے پارلیمانی فورمز کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
🚨 عمران خان نے کہا جو عہدے داران تحریک کا وزن نہیں اٹھا سکتے ہیں وہ پارٹی سے الگ ہو جائیں ورنہ میں باہر آ کر خود سب کو پارٹی سے نکال دوں گا !!
— Ahmed Mughal ⁱᴾⁱᵃⁿ🇵🇰 (@AhmedZubie) July 17, 2026
علیمہ خان pic.twitter.com/nOL1XqyvUF
ادھر قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کی قیادت کا کہنا ہے کہ قائمہ کمیٹیوں سے متعلق فیصلہ پہلے ہی عمران خان کی ہدایت پر کیا گیا تھا اور اس حوالے سے اب تک کوئی نئی ہدایت موصول نہیں ہوئی۔
پارٹی قیادت کے مطابق تحریک انصاف نے پارلیمانی جدوجہد کے ذریعے جو سیاسی گنجائش حاصل کی ہے، اسمبلیوں سے استعفوں کی صورت میں وہ بھی ختم ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ اس معاملے پر تحریک انصاف کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف جاری نہیں کیا گیا، جب کہ سامنے آنے والی اطلاعات مختلف ذرائع کے دعوؤں پر مبنی ہیں۔






