اسمبلی قواعد کے مطابق صرف منتخب رکن ہی بجٹ پیش کر سکتا ہے، جبکہ مشیر خزانہ مزمل اسلم منتخب رکن نہیں ہیں، اسی لیے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے خود بجٹ پیش کیا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ جب تک بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملنے نہیں دیا جاتا تب تک کوئی ڈرافٹ سائن نہیں کریں گے۔
بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا ہمارا مطالبہ تھا کہ بانی پی ٹی آئی کا بہترین اسپتال میں علاج ہو، ملاقاتیں بحال ہوں، عمران خان سے ملاقات نہ ہونے تک کوئی گرانٹ بھی فائل نہیں ہوگی۔
وزیراعلیٰ نے کہا خیبرپختونخوا کے عوام نے تیسری بار مسلسل تحریک انصاف پراعتماد کیا ہے ، مزمل اسلم نے بہترین انداز میں فنانس کو چلایا ہے، تمام پارلیمنٹرین کا مشکورہوں کہ دن رات بجٹ پر کام کیا۔
خیبرپختونخوا اسمبلی میں وزیراعلیٰ کی بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان نے شور شرابہ کیا سہیل آفریدی نے اپوزیشن کو جواب دیا کہ حوصلہ رکھیں، انہوں نے تقریر کے دوران ہدایت کی کہ اپوزیشن ارکان کو پانی پلائیں۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ 48 ارب روپے خسارے کا بجٹ پیش کر رہا ہے، تاہم یہ خسارہ قرض لے کر پورا نہیں کیا جائے گا بلکہ صوبے کے اپنے وسائل سے پورا کیا جائے گا۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق نئے مالی سال میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا، البتہ مختلف ٹیکسوں کی شرح میں ردوبدل کی تجویز دی گئی ہے۔
ترقیاتی پروگرام
سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کے لیے 524 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ ضلعی حکومتوں کے لیے 52 ارب 80 کروڑ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
ضم شدہ اضلاع کے لیے 29 ارب روپے، اے آئی پی پروگرام کے تحت 52 ارب روپے، بیرونی امداد اور قرضوں کی مد میں 150 ارب روپے، جب کہ وفاقی پی ایس ڈی پی کے لیے 5 ارب 18 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
جاری اخراجات کے لیے ایک ہزار 645 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش بھی بجٹ کا حصہ ہے۔
تنخواہوں، پنشن اور کم از کم اجرت میں اضافہ
بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے، جب کہ کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت اور تعلیم
صحت کے شعبے کے لیے 334 ارب روپے، جب کہ تعلیم کے لیے 468 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
صحت کارڈ پروگرام کے لیے 50 ارب روپے اور ایم ٹی آئیز (میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز) اسپتالوں کے لیے 80 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ احساس مستحق پروگرام کے لیے 15 ارب روپے اور پشاور بحالی پروگرام کے لیے 36 ارب روپے رکھنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
روزگار اور بلاسود قرضے
بیرون ملک روزگار کے خواہشمند افراد کے لیے بلاسود قرضوں کی فراہمی کی مد میں 2 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اسی طرح الیکٹرک بائیکس اور رکشہ اسکیم کے لیے ڈھائی ارب روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
ٹرانسپورٹ اور بلدیات
بجٹ میں بی آر ٹی کے لیے 7 ارب 50 کروڑ روپے جبکہ خوشحال خیبر پروگرام کے لیے 4 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
محکمہ بلدیات کے لیے 90 ارب روپے، محکمہ ٹرانسپورٹ کے لیے 14 ارب روپے اور محکمہ داخلہ کے لیے 29 ارب روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
زراعت، توانائی اور زکوٰۃ
زراعت کے شعبے کے لیے 29 ارب روپے، توانائی کے لیے 42 ارب روپے جبکہ زکوٰۃ فنڈ کے لیے 28 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
امن و امان
بجٹ دستاویزات کے مطابق امن و امان کے قیام کے لیے 191 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ گڈ گورننس روڈ میپ کے لیے 20 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ ہے۔





