انہوں نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ پاکستان ہمیشہ تنازعات کے پرامن حل، مذاکرات اور باہمی اعتماد سازی کی حمایت کرتا آیا ہے، موجودہ حالات میں ایسے بیانات یا اقدامات سے اجتناب ضروری ہے جو کشیدگی میں اضافے یا غلط فہمیوں کا سبب بن سکتے ہوں۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ طاقت کے استعمال کے بجائے سفارتی ذرائع، مسلسل مذاکرات اور مثبت رابطے ہی دیرپا امن کی ضمانت فراہم کر سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے تمام متعلقہ فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانا ہوگا تاکہ تنازعات کا مستقل اور قابل قبول حل تلاش کیا جا سکے۔
عاصم افتخار نے کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے، جنگ بندی کے فروغ اور پائیدار امن کے قیام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے،اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ہر ایسے اقدام کی حمایت کرے گا جو خطے میں استحکام، تعاون اور باہمی اعتماد کو فروغ دے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سلامتی کونسل اور عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے اقدامات کی حوصلہ افزائی کرے جو تنازعات کے حل میں مددگار ثابت ہوں اور کسی بھی قسم کی محاذ آرائی یا اشتعال انگیزی کی حوصلہ شکنی کریں۔
پاکستان کے مستقل مندوب نے اپنے خطاب میں اس بات پر بھی زور دیا کہ حساس نوعیت کے مذاکرات کے دوران غیر محتاط بیانات اور یکطرفہ اقدامات سے گریز کیا جانا چاہیے کیونکہ ایسے عوامل سفارتی عمل کو متاثر کر سکتے ہیں، تمام متعلقہ فریقین کو اعتماد سازی کے ماحول کو برقرار رکھتے ہوئے مثبت پیش رفت کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم سے اقوام متحدہ کے سربراہ کے عہدے کی امیدوار ربیکا گرینسپن کی ملاقات، عالمی امن پر تبادلۂ خیال
انہوں نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ مرحلے پر تمام تر توجہ اس معاہدے پر مؤثر اور مکمل عملدرآمد یقینی بنانے پر مرکوز ہونی چاہیے تاکہ جاری سفارتی عمل مطلوبہ نتائج دے سکے اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کی راہ ہموار ہو۔
اپنے خطاب کے اختتام پر عاصم افتخار نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، ترقی اور تعاون کے فروغ کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر اپنا مثبت اور تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا، کیونکہ پائیدار امن ہی خطے کے عوام کی خوشحالی اور ترقی کی ضمانت ہے۔






