اسلام آباد میں او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ خواتین کے خلاف تشدد، امتیازی رویوں اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزیاں ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مسلم دنیا کو خواتین کی تعلیم، صحت، روزگار اور فیصلہ سازی کے عمل میں مؤثر شمولیت کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔
یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ مسلم خواتین نے تاریخ کے ہر دور میں علم، سیاست، تجارت، سماجی خدمت اور معاشی ترقی کے شعبوں میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، خواتین کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائے بغیر معاشرے ترقی کی رفتار برقرار نہیں رکھ سکتے۔
چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ بطور چیئرمین سینیٹ خواتین کے تحفظ، ہراسگی کے خاتمے اور ان کے حقوق کے فروغ کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں، خواتین اور اقلیتوں کا تحفظ ہمیشہ ان کی ترجیحات میں شامل رہا ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔
انہوں نے اپنے سابق دورِ وزارتِ عظمیٰ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانا ان کی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل تھا، خواتین کے تحفظ کے لیے پاکستان میں اہم قانون سازی کی گئی، جن میں خواتین پر تیزاب گردی کے خلاف قانون اور زبردستی شادیوں کی روک تھام سے متعلق اقدامات شامل ہیں۔
یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاکستان خواتین کے خلاف کسی بھی قسم کی ناانصافی، تشدد اور لاقانونیت کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے لاکھوں خواتین کو معاشی سہارا فراہم کیا گیا، جس سے انہیں مالی طور پر خودمختار بنانے میں مدد ملی۔
انہوں نے کہا کہ ان کے دورِ حکومت میں خواتین پارلیمنٹری فورم کا قیام عمل میں لایا گیا، جس کا مقصد خواتین کو قانون سازی، جمہوری عمل اور فیصلہ سازی کے معاملات میں مؤثر کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کرنا تھا۔
چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ بااختیار خواتین نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے معاشرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، مسلسل پالیسی اقدامات، تعلیم کے فروغ اور معاشی مواقع کی فراہمی سے مزید خواتین کو قومی ترقی کے عمل میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: خواتین کی ترقی مسلم دنیا کی خوشحالی کی ضمانت ہے، اعظم نذیر تارڑ
انہوں نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم تھیں اور خواتین کے حقوق کے لیے ایک مضبوط آواز کے طور پر یاد رکھی جاتی ہیں۔
یوسف رضا گیلانی نے او آئی سی کے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ خواتین کی سماجی اور معاشی ترقی کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنائیں، تاکہ مسلم دنیا میں خواتین کو بااختیار بنانے کے عمل کو مزید تیز کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کی ترقی دراصل معاشرے کی مجموعی ترقی ہے اور ایک مضبوط، تعلیم یافتہ اور بااختیار خاتون ہی مستقبل کی نسلوں کو بہتر سمت دے سکتی ہے۔






