ذرائع کا کہنا ہے کہ کے ٹو ایئرویز کی پرواز KTA 1732 شارجہ سے سامان لے کر کراچی کی طرف آ رہی تھی جب اس کا ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ اس وقت منقطع ہوا جب وہ کراچی سے تقریباً 155 ناٹیکل میل (300 کلومیٹر) مغرب میں بحیرہ عرب کے اوپر پرواز کر رہا تھا۔
سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ابتدائی فلائٹ ڈیٹا کے مطابق ریڈار سے غائب ہونے سے ٹھیک پہلے پائلٹ نے ایئر ٹریفک کنٹرولر سے نیویگیشن میں خرابی کی شکایت کی تھی جس کے فوراً بعد طیارے نے اچانک دائیں جانب رخ بدلا اور 15,000 فٹ فی منٹ کی انتہائی خطرناک اور غیر معمولی رفتار سے نیچے کی طرف گرنا شروع کر دیا۔ کنٹرول روم کی مسلسل کالز کے باوجود عملے کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا اور طیارہ اسکرین سے غائب ہو گیا۔
سول ایوی ایشن اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اورماڑا اور کراچی کے درمیانی سمندری علاقے میں بڑے پیمانے پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے اور پاک بحریہ اور کوسٹ گارڈز کو الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ طیارے کے آخری معلوم مقام پر ملبے کی تلاش ممکن بنائی جا سکے۔
واضح رہے کہ چونکہ یہ ایک کارگو فلائٹ تھی اس لیے اس میں عام مسافر سوار نہیں تھے اور طیارے میں صرف ضروری فلائٹ کرو (پائلٹس اور ٹیکنیشنز) موجود تھا جس کی وجہ سے ایئر لائن اور سول ایوی ایشن حکام کی جانب سے عملے کی درست تعداد اور ان کی شناخت سے متعلق آفیشل مینی فیسٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
It is confirmed that a Boeing 737-400 operated by K2 Airways has been involved in a crash, with two pilots on board at the time of the incident.
— Saad (@AirlinePilotmax) July 7, 2026
At 2118 PST, whilst positioned 150 miles south of Karachi on ATS route G216, the aircraft reported a navigation issue and requested a…
سول ایوی ایشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے اور بلیک باکس کی تلاش کے بعد ہی حادثے کی اصل وجوہات کا تعین ہو سکے گا۔
یاد رہے کہ کے ٹو ایئرویز پاکستان کی ایک نجی کارگو ایئر لائن ہے، جس کے بانی اور سی ای او طارق مجید راجہ ہیں۔ اس کمپنی کو متحدہ عرب امارات میں مقیم اوورسیز پاکستانی کاروباری شخصیت طارق راجہ اور ہوا بازی کے دیگر ماہرین کے ایک گروپ نے مل کر شروع کیا ہے، جب کہ اس کا مرکزی ہیڈ کوارٹر جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی میں واقع ہے۔
کمپنی نے پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی سے باقاعدہ منظوری حاصل کرنے کے بعد خصوصی طور پر بوئنگ 737 کارگو طیاروں کے ذریعے پاکستان، خلیجی ممالک اور چین کے درمیان سامان کی تجارتی ترسیل کا آغاز کیا تھا تاکہ نجی شعبے میں کارگو آپریشنز کو فروغ دیا جا سکے۔





