آزاد کشمیر حکومت کے سیکرٹری اطلاعات نے ترجمان آزاد جموں و کشمیر پولیس کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی ہے، تاہم ریاست کی بنیادی ذمہ داری امن و امان قائم رکھنا ہے اور حکومت یہ ذمہ داری ہر صورت پوری کرے گی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی میں بڑی تعداد میں دہشت گرد اور فتنہ الخوارج سے وابستہ عناصر موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کمیٹی میں عوام کم جبکہ مسلح عناصر اور دہشت گرد زیادہ ہیں اور اداروں کے پاس اس تحریک میں دہشت گردوں کی شمولیت کے ثبوت موجود ہیں۔

سیکرٹری اطلاعات نے کہا کہ کالعدم کمیٹی کے احتجاج میں شرپسند اور فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں، جو انسانی آبادی کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ انتظامیہ اور ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کریں تاکہ گمراہ کن معلومات سے محفوظ رہ سکیں۔

اس موقع پر ترجمان آزاد جموں و کشمیر پولیس نے کہا کہ ان عناصر کے پاس جدید اور خودکار اسلحہ موجود ہے، جبکہ ان کی فائرنگ سے پانچ پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

ترجمان پولیس کے مطابق کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح افراد نے گزشتہ شام راولاکوٹ میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر فائرنگ بھی کی۔

آزاد کشمیر پولیس کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے احتجاجی شرکا سے شہر کا امن و امان خراب نہ کرنے اور منتشر ہونے کی اپیل کی، تاہم مظاہرین نے نہ صرف شہر میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی بلکہ اہلکاروں پر فائرنگ بھی کی، جس کے نتیجے میں آزاد جموں و کشمیر پولیس کے دو اہلکار زخمی ہو گئے۔

ادھر راولاکوٹ میں بجلی کی فراہمی مکمل طور پر معطل ہے جبکہ مواصلاتی رابطے بھی منقطع ہیں۔ پونچھ کے علاقوں ہجیرہ، عباس پور اور ضلع سدھنوتی میں بھی بجلی بند ہے اور مواصلاتی نظام متاثر ہے۔

مظاہرین راولاکوٹ سے آگے مظفرآباد جا کر قانون ساز اسمبلی کے باہر احتجاج کرنا چاہتے ہیں۔ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی نے 27 جولائی کو راولاکوٹ سے مظفرآباد کی جانب مارچ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے راولاکوٹ کی جانب مارچ کے دوران ہونے والے تصادم میں متعدد افراد کے جاں بحق اور کئی کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

آزاد کشمیر پولیس کے ترجمان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بے بنیاد، گمراہ کن اور اشتعال انگیز خبروں پر یقین کرنے کے بجائے صرف مستند ذرائع سے موصول ہونے والی معلومات پر اعتماد کریں۔