پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ حالیہ علاقائی حالات میں پاکستان نے ذمہ دارانہ اور متوازن سفارت کاری کا مظاہرہ کیا، جس کے نتیجے میں خطے کو ایک بڑے تصادم اور ممکنہ تباہ کن صورتحال سے بچانے میں مدد ملی، پاکستان نے ہمیشہ امن، مذاکرات اور باہمی احترام کی پالیسی کو فروغ دیا ہے اور موجودہ پیش رفت اسی پالیسی کا تسلسل ہے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے اور کشیدگی میں کمی کے بعد مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کی نئی امید پیدا ہوئی ہے، پاکستان نے مختلف سفارتی فورمز پر امن کے قیام اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے مثبت کردار ادا کیا، جس کے اثرات اب سامنے آرہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے قومی مفادات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ خطے میں امن کے فروغ کے لیے جو کردار ادا کیا، وہ غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے۔ ایک سوال کے جواب میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ نوبل پیس پرائز کس کو ملنا چاہیے، اس کا فیصلہ متعلقہ کمیٹی کرتی ہے، تاہم پاکستانی قیادت کی حالیہ کوششیں عالمی امن کے لیے انتہائی اہم اور قابلِ قدر ہیں۔
مشیر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ خطے میں جنگی ماحول کے خاتمے سے نہ صرف سیاسی استحکام بڑھے گا بلکہ عالمی اور علاقائی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا، اگر ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی یا خاتمہ ہوتا ہے تو خطے میں توانائی کے متعدد منصوبے دوبارہ فعال ہوسکتے ہیں، جن میں ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ بھی شامل ہے۔
رانا ثنا اللہ نے امید ظاہر کی کہ توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھنے سے پاکستان کے توانائی بحران میں کمی آئے گی، صنعتوں کو سستی توانائی میسر ہوگی اور مستقبل میں عوام کو گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی ریلیف مل سکتا ہے۔
آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت آزاد کشمیر میں شفاف، آزاد اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام کو اپنی قیادت منتخب کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور تمام انتخابی عمل کو غیرجانبدار بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جو عناصر انتخابی عمل میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کریں گے انہیں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انتخابات کے بعد آزاد کشمیر کی منتخب قیادت جو بھی فیصلے کرے گی، پاکستان اس کے ساتھ مکمل تعاون کرے گا۔
مزید پڑھیں: مذاکرات میں لبنان جنگ بندی، منجمد اثاثے اور تیل کی فروخت ایجنڈے میں سرفہرست ہیں: ایران
اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر سیاسی جماعتوں کو بات چیت کی دعوت دی ہے کیونکہ قومی مسائل کا حل محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اپوزیشن رہنماؤں سے حالیہ رابطوں میں مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے اور امید ہے کہ سیاسی مکالمے کا عمل آگے بڑھے گا۔
وفاقی کابینہ میں ممکنہ ردوبدل سے متعلق سوال پر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اس حوالے سے گردش کرنے والی خبریں محض قیاس آرائیاں ہیں۔ وزیراعظم نے اب تک کابینہ میں توسیع، کمی یا تبدیلی کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا، تاہم آئینی طور پر یہ اختیار وزیراعظم کے پاس موجود ہے اور وہ مناسب وقت پر کوئی بھی فیصلہ کرسکتے ہیں






