ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک جج کو سپریم کورٹ میں ترقی دینے کے ساتھ سندھ ہائی کورٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ کے نئے چیف جسٹسز کی نامزدگیوں پر بھی غور کیا جائے گا۔

جے سی پی کا یہ اجلاس دوپہر 2 بج کر 30 منٹ پر سپریم کورٹ کی عمارت کے کانفرنس روم میں ہوگا۔

ایجنڈے کے مطابق آئی ایچ سی کے سینئر ججوں میں سے ایک جج کی سپریم کورٹ میں تعیناتی پر بات کی جائے گی، جبکہ متعلقہ نام بعد میں سامنے لائے جائیں گے۔

ایف سی سی کے قیام کے باعث سپریم کورٹ کے چار ججز، جسٹس امین الدین خان، سید حسن اظہر رضوی، عامر فاروق اور علی باقر نجفی نئی عدالت کے لیے منتخب ہو چکے ہیں، جبکہ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کے استعفوں کے بعد سپریم کورٹ کے ججوں کی مجموعی تعداد 24 سے گھٹ کر 18 رہ گئی ہے۔

اجلاس کی صدارت چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کریں گے، جبکہ ایف سی سی کے چیف جسٹس امین الدین خان، جسٹس منیب اختر، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس عامر فاروق، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، پاکستان بار کونسل کے نمائندے احسن بھون، سینیٹر فاروق حمید نائیک، سینیٹر سید علی ظفر اور ارکانِ قومی اسمبلی شیخ عاطف احمد اور گوہر علی خان بھی شریک ہوں گے۔

سندھ ہائی کورٹ کے نئے چیف جسٹس کے تقرر کے لیے عدلیہ کے تین سینئر ججوں پر غور کیا جائے گا، جن میں قائم مقام چیف جسٹس ظفر احمد راجپوت، جسٹس محمد اقبال کلہوڑو اور جسٹس محمود اے خان شامل ہیں۔

بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے انتخاب کے لیے بھی تین سینئر جج زیر غور ہوں گے، جن میں قائم مقام چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخئی، جسٹس اقبال احمد کاکڑ اور جسٹس شوکت علی رخشانی شامل ہیں۔

آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ کے متعدد اہم اداروں میں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ان میں سپریم کورٹ کے جسٹس جمال خان مندوخیل کو سپریم جوڈیشل کونسل اور پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی میں شامل کرنا اور ایف سی سی کے جسٹس عامر فاروق کو جے سی پی کا رکن بنانا شامل ہے۔

ان اداروں میں ایس جے سی ججوں کے احتساب کا سب سے بڑا فورم ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی بینچز کی تشکیل اور مقدمات کی سماعت کے شیڈول کی ذمہ دار ہے، جبکہ جے سی پی اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کا اختیار رکھتا ہے۔