ترجمان ایف آئی اے کے مطابق آف لوڈ کیے گئے مسافروں کی شناخت عبدالستار، سکنہ شیخوپورہ، اور محمد سہیل اصغر، سکنہ خانیوال کے طور پر ہوئی ہے، جو ورک ویزا پر جنوبی سوڈان میں ملازمت کے لیے روانہ ہو رہے تھے۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق دورانِ امیگریشن کلیئرنس دونوں مسافروں کے سفری دستاویزات پر شبہ ہونے پر انہیں مزید جانچ کے لیے روک لیا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ دونوں افراد نے ایک نجی کنسٹرکشن کمپنی کے ذریعے ٹیکنیکل ملازمت حاصل کی تھی، جبکہ ان کے ویزا پراسیسنگ کا عمل بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے ذریعے مکمل کیا گیا تھا۔

ترجمان کے مطابق مزید چھان بین کے دوران انکشاف ہوا کہ دونوں مسافروں کو اس سے قبل 22 جون 2026 کو بھی اسی نوعیت کے ویزا کی تصدیق کے لیے آف لوڈ کیا گیا تھا، کیونکہ اس وقت ان کے ویزا دستاویزات پر درج بعض تفصیلات، جن میں پوسٹل ایڈریس، قریبی رشتہ دار (نیکسٹ آف کن) کا نام اور فون نمبر شامل تھے، مشکوک قرار دیے گئے تھے۔

ایف آئی اے کے مطابق مسافروں کو اس وقت متعلقہ سفارت خانے سے ویزا تصدیق کرانے کی ہدایت کی گئی تھی، تاہم انہوں نے تصدیق کے بجائے مبینہ طور پر ویزا دستاویزات میں موجود اہم معلومات میں ردوبدل کروایا، جس میں ایڈریس اور رابطہ نمبرز شامل تھے۔

تحقیقات کے دوران دونوں مسافروں نے یہ بیان دیا کہ ان کے روزگار اور ویزا سے متعلق تمام انتظامات ایک شخص صداقت علی نے کیے تھے، جو اس وقت جنوبی سوڈان میں مقیم ہے۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق مذکورہ شخص کے کردار اور نیٹ ورک سے متعلق بھی تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ ابتدائی شواہد کی بنیاد پر دونوں مسافروں کو مزید تفتیش کے لیے آف لوڈ کر کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

ایف آئی اے امیگریشن حکام کا کہنا ہے کہ بیرون ملک روزگار کے نام پر جعلی یا مشکوک دستاویزات کے ذریعے سفر کرنے کی کوششوں کی سختی سے نگرانی کی جا رہی ہے، اور ایسے تمام کیسز میں قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔

حکام نے شہریوں کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ بیرون ملک ملازمت کے لیے صرف مستند اور رجسٹرڈ ایجنٹس کے ذریعے ہی کارروائی کریں تاکہ کسی بھی قسم کی قانونی پیچیدگی یا دھوکے سے بچا جا سکے۔