اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک ٹیم کی طرح کام کرتے ہوئے مثالی کارروائی کی۔
انہوں نے کہا کہ دھماکے کے فوری بعد پشاور اور نوشہرہ میں چھاپے مارے گئے، جن کے دوران چار سہولت کار گرفتار کیے گئے، جب کہ حملے کا مرکزی ماسٹر مائنڈ، جو داعش سے تعلق رکھنے والا افغان شہری ہے، رات تقریباً تین بجے گرفتار کر لیا گیا۔
وفاقی وزیرِ داخلہ نے بتایا کہ اس کارروائی کے دوران خیبرپختونخوا پولیس کا ایک اے ایس آئی شہید جب کہ کئی اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ انہوں نے شہید اہلکار کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ قوم ان قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔
وزیرِ داخلہ محسن نقوی: پاکستان میں دہشت گردی کی بنیاد افغانستان سے ہے، کمیونٹی انٹیلی جنس ضروری، نامعلوم افراد کی فوری اطلاع دیں۔ @MohsinnaqviC42 pic.twitter.com/vJJkf9Pb8P
— Baloch Wire (@Balochwire) February 7, 2026
محسن نقوی نے واضح کیا کہ حملے کی مکمل منصوبہ بندی اور دہشت گرد کی تربیت افغانستان میں کی گئی۔ گرفتار افراد تمام تفصیلات فراہم کر رہے ہیں کہ کس طرح خودکش حملہ آور کو افغانستان لے جایا گیا، وہاں ٹریننگ دی گئی اور پھر واپس پاکستان بھیجا گیا۔
انہوں نے کہا کہ جیسے ہی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ حملہ آور افغانستان گیا تھا، اسی وقت واضح ہو گیا تھا کہ معاملہ کہاں جا کر رکے گا اور بالآخر وہی حقیقت سامنے آئی۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد دھماکہ، ’حملہ آور خودکش جیکٹ پہن کر پبلک ٹرانسپورٹ میں آیا‘
وفاقی وزیرِ داخلہ نے کہا ہے کہ ترلائی میں ہونے والا خودکش حملہ ایک ایسا سانحہ تھا جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا، کوئی گھر ایسا نہیں تھا جو غمگین نہ ہو۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ دھماکے کے فوراً بعد تمام سیکیورٹی اور انٹیلیجنس ایجنسیز متحرک ہو گئیں اور رات بھر جاری رہنے والے آپریشنز کے نتیجے میں حملے کے ماسٹر مائنڈ سمیت تمام مرکزی سہولت کاروں کو گرفتار کر لیا گیا۔
محسن نقوی نے کہا کہ چاہے ٹی ٹی پی ہو، داعش ہو، افغان طالبان ہوں یا کوئی اور خارجی دہشت گرد تنظیم، اس وقت کم از کم 21 دہشت گرد تنظیمیں افغانستان سے آپریٹ کر رہی ہیں، جس کی تصدیق اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں بھی ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تنظیمیں پیسے کے لیے کام کرتی ہیں، جہاں فنڈنگ زیادہ ملتی ہے وہاں اپنا رخ موڑ لیتی ہیں۔
وفاقی وزیرِ داخلہ نے دعویٰ کیا کہ ان تمام دہشت گرد سرگرمیوں کی فنڈنگ انڈیاکر رہا ہے، اہداف انڈیا کی جانب سے دیے جا رہے ہیں اور منصوبہ بندی بیک اینڈ پر بیٹھ کر کی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مئی کے بعد دہشت گردوں کا بجٹ تین گنا بڑھایا گیا، جنہیں پہلے 500 ڈالر دیے جاتے تھے، اب 1500 ڈالر دیے جا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد خودکش حملہ آور کا بہنوئی کراچی سے، والدہ اسلام آباد سے گرفتار
محسن نقوی نے کہا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا سمیت ملک کے مختلف حصوں میں ہم حالتِ جنگ میں ہیں اور اس صورتحال میں کمیونٹی انٹیلیجنس سب سے اہم ہے۔ عوام اگر کسی مشتبہ شخص یا سرگرمی کی بروقت اطلاع دیں تو دہشت گردی پر قابو پانا ممکن ہو سکتا ہے۔
وفاقی وزیرِ داخلہ نے میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایک حملہ ہو جاتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ سیکیورٹی ادارے ناکام ہو گئے، حقیقت یہ ہے کہ 100 میں سے 99 حملے ناکام بنا دیے جاتے ہیں، لیکن ان کو میڈیا میں اجاگر نہیں کیا جاتا کیونکہ اس سے نیٹ ورک تک پہنچنے میں مشکل پیش آتی ہے۔
محسن نقوی نے مزید کہا کہ دہشت گرد تنظیمیں پہلے مکمل پروپیگنڈا اور ویڈیو مواد تیار کرتی ہیں، پھر حملہ کرتی ہیں اور بعد ازاں انڈین میڈیا پر اسے بھرپور انداز میں چلایا جاتا ہے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں بی ایل اے کی ویڈیوز کو عالمی سطح پر پھیلایا جاتا ہے، حالانکہ یہ ایک دہشت گرد تنظیم ہے۔
لازمی پڑھیں: خودکش حملہ آور افغان شہری تو نہیں لیکن اُس کے افغانستان سفر کرنے کی تفصیلات ملی ہیں، طلال چوہدری
انہوں نے زور دیا کہ جنگ میں دشمن کی کوئی کیٹیگری نہیں ہوتی، دشمن صرف دشمن ہوتا ہے اور عوام کو اس حوالے سے مکمل ذہنی وضاحت ہونی چاہیے۔
محسن نقوی نے کہا کہ یہ خطرہ اب صرف پاکستان تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک علاقائی خطرہ بنتا جا رہا ہے اور اگر دنیا نے بروقت آواز نہ اٹھائی تو اس کی قیمت سب کو چکانا پڑے گی۔
آخر میں وفاقی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ حکومت دہشت گردی کے خلاف ہر محاذ پر بھرپور جواب دے رہی ہے اور آنے والے دنوں میں سفارتی سطح پر بھی شواہد کے ساتھ دنیا کو آگاہ کیا جائے گا۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ چاہے دہشت گرد اپنے بجٹ دس گنا کیوں نہ بڑھا لیں، پاکستان انہیں شکست دے کر ہی دم لے گا۔






